سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 415
۴۱۵ اس لئے ( میور صاحب لکھتے ہیں ) ہم کو یہ معلوم کر کے تعجب نہ کرنا چاہئے کہ بعض قیدی اس نیک سلوک کے اثر کے نیچے مسلمان ہو گئے اور ایسے لوگوں کو فوراً آزاد کر دیا گیا۔۔۔۔جو قیدی اسلام نہیں لائے ان پر بھی اس نیک سلوک کا بہت اچھا اثر تھا۔“ یہ بھی روایت آتی ہے کہ جب یہ قیدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے تو آپ نے فرمایا کہ اگر آج مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور مجھ سے ان لوگوں کی سفارش کرتا تو میں ان کو یونہی چھوڑ دیتا۔مطعم پکا مشرک تھا اور اسی حالت میں وہ مرا لیکن طبیعت میں شرافت کا مادہ رکھتا تھا۔چنانچہ قریش کا ظالمانہ صحیفہ جس کی وجہ سے مسلمان شعب ابی طالب میں محصور کر دیئے گئے تھے اسے مطعم نے ہی چاک کیا تھا اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے واپس آئے تھے تو اس وقت بھی مطعم نے ہی آپ کو اپنی پناہ میں لے کر مکہ میں داخل کیا تھا۔یہ اسی احسان کی یاد تھی جس سے متاثر ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ فرمائے۔دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ایک نمایاں خصوصیت تھی کہ جب کبھی کوئی شخص آپ کے ساتھ ذرا سا بھی نیک سلوک کرتا تھا تو آپ اس کے احسان کو کبھی نہیں بھولتے تھے اور آپ کی ہمیشہ یہ خواہش رہتی تھی کہ آپ کو اس کے احسان کا عملی شکر یہ ادا کر نے کا موقع ملتار ہے اور یہ نہیں تھا کہ دنیا داروں کی طرح جب آپ ایک دفعہ کسی کے احسان کے جواب میں نیک سلوک کر لیتے تھے تو پھر یہ کہنے لگ جاتے تھے کہ بس اب احسان کا بدلہ اتر گیا ہے بلکہ جب کبھی کوئی شخص آپ کے ساتھ نیک سلوک کرتا تھا تو پھر وہ ہمیشہ کے لئے آپ کو اپنا خاص محسن بنالیتا تھا اور آپ کبھی بھی اس کے احسان کو اترا ہوا نہیں سمجھتے تھے اور دراصل اعلیٰ اخلاق کا یہی تقاضا ہے کیونکہ جس احسان کے نیچے انسان ایک دفعہ آ جاوے پھر اس کے متعلق یہ سمجھنا کہ کسی جوابی احسان سے اس کا بدلہ اتر سکتا ہے ایک تجارتی لین دین تو کہلا سکتا ہے مگر ایک اخلاقی ذمہ داری سے عہدہ برآئی ہرگز نہیں سمجھا جاسکتا۔جولوگ قید ہوئے تھے ان میں سے بعض رؤساء قریش میں سے تھے۔چنانچہ النضر بن الحارث اور سہیل بن عمر ومکہ کے بڑے لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔بعض قیدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت قریبی رشتہ دار تھے مثلاً عباس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔عقیل آپ کے چچازاد بھائی اور حضرت علی کے حقیقی بھائی تھے۔ابو العاص بن ربیع تھے جو آپ کی صاحبزادی زینب کے خاوند یعنی آپ کے داماد تھے۔بعض مورخین نے قید ہونے والے رؤساء میں عقبہ بن ابی معیط کا نام بھی بیان کیا ہے اور لکھا ہے : مطعم مکہ کا ایک رئیس تھا جو کفر کی حالت میں مرگیا تھا : بخاری کتاب المغازی