سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 417 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 417

۴۱۷ تا کہ وہ آگے آگے جا کر اہل مدینہ کو فتح کی خوشخبری پہنچا دیں۔چنانچہ انہوں نے آپ سے پہلے پہنچ کر مدینہ والوں کو فتح کی خبر پہنچائی۔جس سے مدینہ کے صحابہ کو اگر ایک طرف اسلام کی عظیم الشان فتح ہونے کے لحاظ سے کمال درجہ خوشی ہوئی تو اس لحاظ سے کسی قدر افسوس بھی ہوا کہ اس عظیم الشان جہاد کے ثواب سے وہ خود محروم رہے۔اس خوشخبری نے اس غم کو بھی غلط کر دیا جو زید بن حارثہ کی آمد سے تھوڑی دیر قبیل مسلمانان مدینہ کو عموماً اور حضرت عثمان کو خصوصاً رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہنچا تھا جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیچھے بیمار چھوڑ کر غزوہ بدر کے لئے تشریف لے گئے تھے اور جن کی وجہ سے حضرت عثمان بھی شریک غز وہ نہیں ہو سکے۔مدینہ پہنچ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کے متعلق مشورہ کیا کہ ان کے متعلق کیا کرنا چاہئے۔عرب میں بالعموم قیدیوں کو قتل کر دینے یا مستقل طور پر غلام بنا لینے کا دستور تھا۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر یہ بات سخت ناگوار گزرتی تھی۔اور پھر ابھی تک اس بارہ میں کوئی الہی احکام بھی نازل نہیں ہوئے تھے۔حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ میری رائے میں تو ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دینا چاہئے۔کیونکہ آخر یہ لوگ اپنے ہی بھائی بند ہیں اور کیا تعجب کہ کل کو انہی میں سے فدایانِ اسلام پیدا ہو جائیں۔مگر حضرت عمر نے اس رائے کی مخالفت کی اور کہا کہ دین کے معاملہ میں رشتہ داری کا کوئی پاس نہیں ہونا چاہئے اور یہ لوگ اپنے افعال سے قتل کے مستحق ہو چکے ہیں۔پس میری رائے میں ان سب کو قتل کر دینا چاہئے بلکہ حکم دیا جاوے کہ مسلمان خود اپنے ہاتھ سے اپنے اپنے رشتہ داروں کو قتل کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فطری رحم سے متاثر ہو کر حضرت ابوبکر کی رائے کو پسند فرمایا اور قتل کے خلاف فیصلہ کیا اور حکم دیا کہ جو مشرکین اپنا فدیہ وغیرہ ادا کر دیں انہیں چھوڑ دیا جاوے لے چنانچہ بعد میں اس کے مطابق الہی حکم نازل ہوا۔چنانچہ ہر شخص کے مناسب حال ایک ہزار درہم سے لے کر چار ہزار درہم تک اس کا فدیہ مقرر کر دیا گیا۔اس طرح سارے قیدی رہا ہوتے گئے۔عباس جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچا تھے اور ان کو آپ سے اور آپ کو ان سے بہت محبت تھی ان کے متعلق انصار نے عرض کیا کہ یہ ہمارا بھانجا ہے۔یہ ہم انہیں بغیر فدیہ کے چھوڑ دیتے ہیں لیکن گو قیدی کو بطور احسان کے چھوڑ دینا اسلام میں جائز بلکہ پسندیدہ تھا مگر اس موقع پر عباس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے مسلم کتاب الجہاد۔ترندی تفسیر سورۃ انفال و زرقانی جلد اصفحه ۴۴۰ - ۴۴۱ ۲ : سورة محمد و کتاب الخراج صفحه ۱۲۱ یاد ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پڑدادی مدینہ کی تھیں۔: ابن سعد