سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 397 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 397

۳۹۷ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل ہونے کے متعلق فرمائی تھی اور جس کا علم اسے سعد بن معاذ کے ذریعہ مکہ میں ہو چکا تھا لیکن چونکہ ان دونا می رؤساء کے پیچھے رہنے سے عامتہ الکفار پر برا اثر پڑنے کا اندیشہ تھا اس لئے دوسرے رؤساء قریش نے جوش اور غیرت دلا دلا کر آخر ان دونوں کو رضامند کر لیا یعنی امیہ تو خود تیار ہو گیا اور ابولہب نے ایک دوسرے شخص کو کافی روپیہ دینا کر کے اپنی جگہ کھڑا کر دیا اور اس طرح تین دن کی تیاری کے بعد ایک ہزار سے زائد جانباز سپاہیوں کا لشکر مکہ سے نکلنے کو تیار ہو گیا۔ابھی یہ لشکر مکہ میں ہی تھا کہ بعض رؤساء قریش کو یہ خیال آیا کہ چونکہ بنو کنانہ کی شاخ بنو بکر کے ساتھ اہل مکہ کے تعلقات خراب ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی غیر حاضری سے فائدہ اٹھا کر وہ ان کے پیچھے مکہ پر حملہ کر دیں اور اس خیال کی وجہ سے بعض قریش کچھ متزلزل ہونے لگے۔مگر بنو کنانہ کے ایک رئیس سراقہ بن مالک بن جعشم نے جو اس وقت مکہ میں تھا ان کو اطمینان دلایا اور کہا کہ میں اس بات کا ضامن ہوتا ہوں کہ مکہ پر کوئی حملہ نہیں ہوگا۔بلکہ سراقہ کو مسلمانوں کی مخالفت کا ایسا جوش تھا کہ قریش کی اعانت میں وہ خود بھی بدر تک گیا، لیکن وہاں مسلمانوں کو دیکھ کر اس پر کچھ ایسا رعب طاری ہوا کہ جنگ سے پہلے ہی اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر بھاگ آیا۔اسی واقعہ کی طرف قرآن شریف کی اس آیت میں اشارہ سمجھا گیا ہے کہ اِذْزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَنُ أَعْمَالَهُمْ۔۔۔۔وَاللهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ۔جبکہ شیطان قریش مکہ کو مسلمانوں کے خلاف حق بجانب قرار دیتا تھا اور انہیں ابھارتا تھا۔الخ مکہ سے نکلنے سے پہلے قریش نے کعبہ میں جا کر دعا کی کہ اے خدا ہم دونوں فریقوں میں سے جو گر وہ حق پر قائم ہے اور تیری نظروں میں زیادہ شریف اور زیادہ افضل ہے تو اس کی نصرت فرما اور دوسرے کو ذلیل ورسوا کر ، اس کے بعد کفار کا لشکر بڑے جاہ وحشم کے ساتھ مکہ سے روانہ ہوا۔تمام رؤساء قریش ساتھ تھے اور گانے بجانے والی عورتیں بھی جو اپنے اشعار کے ساتھ دفیں بجاتی ہوئی غیرت اور جوش دلاتی تھیں ہمراہ تھیں۔راستہ میں رؤساء قریش نے اس مہم کو ایک خاص قومی کارنامہ خیال کرتے ہوئے اپنے خرچ سے لشکر کی خوراک کا انتظام کیا۔چنانچہ ان کی طرف سے ہر روز باری باری نونو دس دس اونٹ سپاہیوں کی ضیافت کے لئے ذبح کئے جاتے تھے۔جب یہ لشکر جحفہ میں پہنچا جو مکہ اور بدر کے درمیان مگر بدر کے قریب تر ایک مقام ہے تو ابوسفیان کے ایک قاصد کے ذریعے انہیں یہ خبر موصول ہوئی کہ ان کا زرقانی وسيرة حلبيه : خمیس جلد اصفحہ ۴۱۷ : سورۃ انفال : ۴۹ زرقانی حالات غزوہ بدر