سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 396
۳۹۶ ہوش میں لانے اور انہیں ان کی خطرناک کارروائیوں سے روکنے کا ایک بہترین ذریعہ تھی اور دوسرے ان قافلوں کا مدینہ سے اس قدر قریب ہو کر گزرنا ویسے بھی مسلمانوں کے لئے کئی طرح سے خطرے کے احتمالات رکھتا تھا اور پھر اس قافلہ کے خاص حالات ایسے تھے کہ اس کا بیچ کر نکل جانا بظاہر حالات مسلمانوں کی تباہی کا پیش خیمہ سمجھا جاسکتا تھا۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر پا کر اپنے دو مہاجر صحابی طلحہ بن عبید اللہ اور سعید بن زید کو خبر رسانی کے لئے روانہ فرمایا اور دوسرے صحابہ کو بھی اطلاع دے دی کہ وہ اس قافلہ کی روک تھام کے لئے نکلنے کو تیار رہیں مگر اتفاق ایسا ہوا کہ کسی طرح ابو سفیان کو بھی آپ کے اس ارادے کی اطلاع ہوگئی یا یہ بھی ممکن ہے کہ اس نے ویسے ہی بطور خود اندیشہ محسوس کیا ہو۔بہر حال اس نے ایک سوار مضمضم نامی مکہ کی طرف بھگا دیا اور اسے تاکید کی کہ بڑی تیزی کے ساتھ سفر کرتا ہوا مکہ میں پہنچے اور وہاں سے قریش کا لشکر قافلہ کی حفاظت اور مسلمانوں کو مرعوب کرنے کے لئے نکال لائے اور خود ابوسفیان نے یہ احتیاط اختیار کی کہ اصل راستے کو چھوڑ کر سمندر کے کنارے کی طرف ہٹ گیا اور چھپ چھپ کر مگر تیزی کے ساتھ مکہ کی طرف بڑھنا شروع ہوا۔جب ابوسفیان کا یہ قاصد مکہ پہنچا تو اس نے عرب کے دستور کے مطابق ایک نہایت وحشت زده حالت بنا کر زور زور سے چلانا شروع کیا کہ اے اہل مکہ تمہارے قافلہ پر محمد اور اس کے اصحاب حملہ کرنے کے لئے نکلے ہیں چلو اور اسے بچالو۔یہ خبر سن کر مکہ کے لوگ گھبرا کر کعبۃ اللہ کے گرد جمع ہو گئے اور رؤساء قریش نے پھر اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نہایت درجہ اشتعال انگیز تقریریں کیں جس سے لوگوں کے سینے اسلام کی عداوت کے جوش سے بھر گئے اور انہوں نے مسلمانوں پر حملہ آور ہو کر تباہ و برباد کر دینے کا پختہ عزم کر لیا۔اس وقت قریش کے جوش کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے بالا تفاق یہ فیصلہ کیا کہ ایک بڑا جرار لشکر تیار کر کے مسلمانوں کے خلاف نکلیں اور اس مہم میں ہر وہ شخص جولڑنے کے قابل ہے شامل ہو جو شخص کسی مجبوری کی وجہ سے خود شامل نہ ہو سکتا ہو وہ اپنی جگہ کسی دوسرے شخص کو بھیجنے کا انتظام کرے۔اور رؤساء قریش اس تحریک میں خود سب سے آگے آگے تھے۔صرف دو شخص تھے جنہوں نے اس مہم میں شمولیت سے تأمل کیا اور وہ ابولہب اور امیہ بن خلف تھے مگر ان کے تأمل کی وجہ مسلمانوں کی ہمدردی نہیں تھی بلکہ ابولہب تو اپنی بہن عاتکہ بنت عبدالمطلب کے خواب سے ڈرتا تھا جو اس نے ضمضم کے آنے سے صرف تین دن پہلے قریش کی تباہی کے متعلق دیکھا تھا اور امیہ بن خلف اس پیشگوئی کی وجہ سے خائف تھا جو ا : یہ بالکل جھوٹ تھا کیونکہ ابھی تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں ہی تھے۔