سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 376
میں ہے کہ یہ سر یہ جمادی الآخر میں بھیجا گیا تھا اور شک یہ تھا کہ یہ دن جمادی کا ہے یار جب کا۔لیکن دوسری طرف نخلہ کی وادی عین حرم کے علاقہ کی حد پر واقع تھی اور یہ ظاہر تھا کہ اگر آج ہی کوئی فیصلہ نہ ہوا تو کل کو یہ قافلہ حرم کے علاقہ میں داخل ہو جائے گا جس کی حرمت یقینی ہوگی۔غرض ان سب باتوں کو سوچ کر مسلمانوں نے آخر یہی فیصلہ کیا کہ قافلہ پر حملہ کر کے یا تو قافلہ والوں کو قید کر لیا جاوے اور یا مار دیا جاوے۔چنانچہ انہوں نے اللہ کا نام لے کر حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں کفار کا ایک آدمی جس کا نام عمرو بن الحضر می تھا مارا گیا اور دو آدمی قید ہو گئے ، لیکن بدقسمتی سے چوتھا آدمی بھاگ کرنکل گیا اور مسلمان اسے پکڑ نہ سکے اور اس طرح ان کی تجویز کامیاب ہوتے ہوتے رہ گئی۔اس کے بعد مسلمانوں نے قافلہ کے سامان پر قبضہ کر لیا اور چونکہ قریش کا ایک آدمی بچ کر نکل گیا تھا اور یقین تھا کہ اس لڑائی کی خبر جلدی مکہ پہنچ جائے گی عبداللہ بن جحش اور ان کے ساتھی سامان غنیمت لے کر جلد جلد مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے۔مسٹر مار گولیس اس موقع پر لکھتے ہیں کہ دراصل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ دستہ دیدہ دانستہ اس نیت سے شہر حرام میں بھیجا تھا کہ چونکہ اس مہینہ میں قریش طبعا غافل ہوں گے۔مسلمانوں کو ان کے قافلہ کے لوٹنے کا آسان اور یقینی موقع مل جائے گا لیکن ہر عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ ایسی مختصر پارٹی کو اتنے دور دراز علاقہ میں کسی قافلہ کی غارت گری کے لئے نہیں بھیجا جا سکتا خصوصاً جبکہ دشمن کا ہیڈ کوارٹر اتنا قریب ہو اور پھر یہ بات تاریخ سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ یہ پارٹی محض خبر رسانی کی غرض سے بھیجی گئی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ علم ہوا کہ صحابہ نے قافلہ پر حملہ کیا تھا تو آپ سخت ناراض ہوئے۔چنانچہ روایت ہے کہ جب یہ جماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو سارے ماجرا کی اطلاع ہوئی تو آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا مَا اَمَرْتُكُمْ بِقِتَالٍ فِى الشَّهْرِ الْحَرَامِ - میں نے تمہیں شہر حرام میں لڑنے کی اجازت نہیں دی ہوئی۔وَأَبِي أَنْ يَأْخُذَ مِنْ ذَالِكَ شَيْئًا - اور آپ نے مال غنیمت لینے سے انکار کر دیا۔اس پر عبداللہ اور ان کے ساتھی سخت نادم اور پشیمان ہوئے۔وَظَنُّوا أَنَّهُمُ قَدْ هَلَكُوا۔اور انہوں نے خیال کیا کہ بس اب ہم خدا اور اس کے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔صحابہ نے بھی ان کو سخت ملامت کی اور کہا صَنَعْتُمُ مَالَمْ تُؤْمَرُوا زرقانی : طبری وسیرۃ ابن ہشام : طبری وابن ہشام : طبری و سیرۃ ابن ہشام