سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 377 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 377

۳۷۷ وَقَاتَلْتُمْ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِقِتَالِ ا یعنی ” تم نے وہ کام کیا جس کا تم کوحکم نہیں دیا گیا تھا اور تم نے شہر حرام میں لڑائی کی حالانکہ اس مہم میں تو تم کو مطلقاً لڑائی کا حکم نہیں تھا۔“ دوسری طرف قریش نے بھی شور مچایا کہ مسلمانوں نے شہر حرام کی حرمت کو توڑ دیا ہے اور چونکہ جوشخص مارا گیا تھا یعنی عمرو بن الحضر می وہ ایک رئیس آدمی تھا اور پھر وہ عقبہ بن ربیعہ رئیس مکہ کا حلیف بھی تھا اس لئے بھی اس واقعہ نے قریش کی آتش غضب کو بہت بھڑکا دیا اور انہوں نے آگے سے بھی زیادہ جوش و خروش کے ساتھ مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری شروع کر دی۔چنانچہ جنگ بدر جس کا ذکر آگے آتا ہے زیادہ ترقریش کی اسی تیاری اور جوش عداوت کا نتیجہ تھا۔الغرض اس واقعہ پر م پر مسلمانوں اور کفار ہر دو میں بہت چہ میگوئی ہوئی اور بالآخر ذیل کی قرآنی وحی نازل ہو کر مسلمانوں کی تشفی کا موجب ہوئی۔يَسْتَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ قُلْ قِتَالُ فِيْهِ كَبِيرٌ وَصَلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ * أكْبَرُ عِنْدَ اللهِ وَالْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا " یعنی "لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ شہر حرام میں لڑنا کیسا ہے؟ تو ان کو جواب دے کہ بے شک شہر حرام میں لڑنا بہت بری بات ہے لیکن شہر حرام میں خدا کے دین سے لوگوں کو جبر ارو کنا بلکہ شہر حرام اور مسجد حرام دونوں کا کفر کرنا یعنی ان کی حرمت کو توڑنا اور پھر حرم کے علاقہ سے اس کے رہنے والوں کو بزور نکالنا جیسا کہ اے مشرکو تم لوگ کر رہے ہو یہ سب باتیں خدا کے نزدیک شہر حرام میں لڑنے کی نسبت بھی زیادہ بری ہیں اور یقیناً شہر حرام میں ملک کے اند رفتنہ پیدا کرنا اس قتل سے بدتر ہے جو فتنہ کو روکنے لے لئے کیا جاوے۔اور اے مسلمانو! کفار کا تو یہ حال ہے کہ وہ تمہاری عداوت میں اتنے اندھے ہورہے ہیں کہ کسی وقت اور کسی جگہ بھی وہ تمہارے ساتھ لڑنے سے باز نہیں آئیں گے اور وہ اپنی یہ لڑائی جاری رکھیں گے حتی کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں بشرطیکہ وہ اس کی طاقت پائیں۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ اسلام کے خلاف رؤسائے قریش اپنے خونی پراپیگنڈا کو اشہر حرام میں بھی برابر جاری رکھتے تھے بلکہ اشہر حرم کے اجتماعوں اور سفروں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ان مہینوں میں اپنی مفسدانہ کارروائیوں میں اور بھی زیادہ تیز ہو جاتے تھے اور پھر کمال بے حیائی سے اپنے دل کو جھوٹی تسلی دینے کے لئے وہ عزت کے مہینوں کو اپنی جگہ سے ادھر ادھر منتقل بھی کر دیا کرتے تھے جسے وہ نسئی کے نام سے پکارتے تھے اور پھر آگے چل کر تو انہوں نے غضب ہی کر دیا کہ صلح حدیبیہ کے زمانہ میں باوجود پختہ طبری : سورة بقره : ۲۱۸