سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 375 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 375

۳۷۵ کے حالات کا علم لو اور پھر ہمیں اطلاع لا کر دو۔“ اور چونکہ مکہ سے اس قدر قریب ہو کر خبر رسانی کرنے کا کام بڑا نازک تھا۔آپ نے خط کے نیچے یہ ہدایت بھی لکھی تھی کہ اس مشن کے معلوم ہونے کے بعد اگر تمہارا کوئی ساتھی اس پارٹی میں شامل رہنے سے متامل ہو اور واپس چلا آنا چا ہے تو اسے واپس آنے کی اجازت دے دو۔عبداللہ نے آپ کی یہ ہدایت اپنے ساتھیوں کو سنا دی اور سب نے یک زبان ہوکر کہا کہ ہم بخوشی اس خدمت کے لئے حاضر ہیں۔اس کے بعد یہ جماعت نخلہ کی طرف روانہ ہوئی۔راستہ میں سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان کا اونٹ کھویا گیا اور وہ اس کی تلاش کرتے کرتے اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گئے اور باوجود بہت تلاش کے انہیں نہ مل سکے اور اب یہ پارٹی صرف چھ کس کی رہ گئی۔مسٹر مار گولیس اس موقع پر لکھتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عتبہ نے جان بوجھ کر اپنا اونٹ چھوڑ دیا تھا اور اس بہانہ سے پیچھے رہ گئے۔ان جاں نثاران اسلام پر جن کی زندگی کا ایک ایک واقعہ ان کی شجاعت اور فدائیت پر شاہد ہے اور جن میں سے ایک غزوہ بئر معونہ میں کفار کے ہاتھوں شہید ہوا اور دوسرا کئی خطرناک معرکوں میں نمایاں حصہ لے کر بالآخر عراق کا فاتح بنا اس قسم کا شبہ کرنا اور شبہ بھی محض اپنے من گھڑت خیالات کی بناء پر کرنا مسٹر مارگولیس ہی کا حصہ ہے اور پھر لطف یہ ہے کہ مارگولیس صاحب اپنی کتاب میں دعوئی یہ کرتے ہیں کہ میں نے یہ کتاب ہر قسم کے تعصب سے پاک ہو کر لکھی ہے۔خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔مسلمانوں کی یہ چھوٹی سی جماعت نخلہ پہنچی اور اپنے کام میں مصروف ہو گئی اور ان میں سے بعض نے اخفاء راز کے خیال سے اپنے سر کے بال منڈوادے تاکہ را بگیر وغیرہ ان کو عمرہ کے خیال سے آئے ہوئے لوگ سمجھ کر کسی قسم کا شبہ نہ کریں لیکن ابھی ان کو وہاں پہنچے زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ اچانک وہاں قریش کا ایک چھوٹا سا قافلہ بھی آن پہنچا جو طائف سے مکہ کی طرف جارہا تھا اور ہر دو جماعتیں ایک دوسرے کے سامنے ہوگئیں۔مسلمانوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خفیہ خفیہ خبر رسانی کے لئے بھیجا تھا، لیکن دوسری طرف قریش سے جنگ شروع ہو چکی تھی اور اب دونوں حریف ایک دوسرے کے سامنے تھے اور پھر طبعا یہ اندیشہ بھی تھا کہ اب جو قریش کے ان قافلہ والوں نے مسلمانوں کو دیکھ لیا ہے تو اس خبر رسانی کا راز بھی مخفی نہ رہ سکے گا۔ایک دقت یہ بھی تھی کہ بعض مسلمانوں کو خیال تھا کہ شاید یہ دن رجب یعنی شہر حرام کا آخری ہے جس میں عرب کے قدیم دستور کے مطابق لڑائی نہیں ہونی چاہئے تھی۔اور بعض سمجھتے تھے کہ رجب گزر چکا ہے اور شعبان شروع ہے۔اور بعض روایات : طبری وابن ہشام ابن ہشام وطبری