سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 351
۳۵۱ یعنی " عاصم بن کلیب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری صحابی بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ایک موقع پر لوگوں کو خطرناک بھوک لگی اور وہ سخت مصیبت میں مبتلا ہو گئے اور ان کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا ) جس پر انہوں نے ایک بکریوں کے گلہ میں سے چند بکریاں پکڑ لیں اور انہیں ذبح کر کے پکانا شروع کر دیا۔ہماری ہنڈیاں اس گوشت سے اہل رہی تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اوپر سے تشریف لے آئے اور آپ نے آتے ہی اپنی کمان سے ہماری ہنڈیوں کوالٹ دیا اور غصہ میں گوشت کے ٹکڑوں کو مٹی میں مسلنے لگ گئے اور فرمایا کہ لوٹ کا مال مردار سے بہتر نہیں ہے۔“ یہ ان لوگوں کا قصہ ہے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ ان کولوٹ مار کی تعلیم دی جاتی تھی۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر آج کسی یورپین فوج کو اس طرح کی حالت پیش آئے کہ ان کے پاس زادراہ ختم ہو گیا ہوا اور فوجی لوگ بھوک سے تڑپ رہے ہوں تو کسی چرتے ہوئے گلہ کی بکریوں پر قبضہ کر لینا تو معمولی بات ہے وہ نہ معلوم کیا کچھ جائز قرار دے لیں۔پھر روایت آتی ہے کہ: عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلاً قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ رَجُلٌ يُرِيدُ الجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا فَقَالَ لَا أَجْرَلَهُ فَدَعَارَلَهُ ثَلَانَّا كُلُّ ذَالِكَ يَقُولُ لَا أَجْرَلَهُ و یعنی ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ایک شخص ہے کہ اس کی اصل نیست تو جہاد فی سبیل اللہ کی ہے لیکن ساتھ ہی اسے یہ بھی خیال آجاتا ہے کہ جنگ میں کچھ مال و متاع بھی مل رہے گا تو اس میں کوئی حرج تو نہیں ہے۔آپ نے فرمایا۔ایسے شخص کے لئے ہرگز کوئی ثواب نہیں ہے۔اس شخص نے حیران ہو کر تین دفعہ اپنا سوال دو ہرایا مگر ہر دفعہ آپ نے یہی جواب دیا کہ اس کے لئے ہرگز کوئی ثواب نہیں۔“ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاد کرنے والے کی نیت خالصۂ دینی ہونی چاہئے اور اگر حفاظت دین کے علاوہ کوئی ذرا سا خیال بھی اس کے دل میں پیدا ہو تو وہ ثواب سے محروم ہو جاتا ہے اور غنیمت لے : ابوداؤ دو نسائی