سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 352 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 352

۳۵۲ اور دنیوی مال ومتاع کی امید رکھنا مجاہد کے لئے قطعی حرام ہے۔پھر روایت آتی ہے کہ: مَامِنُ غَازِيَةٍ تَغْرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُصِيبُونَ غَنِيمَةً إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلَثَى أَجْرِهِمُ مِنَ الْآخِرَةِ وَيَبْقَى لَهُمُ التَّلْتُ وَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَهُمْ اَجُرُهُ یعنی " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو مجاہدین خدا کی راہ میں لڑنے کے لئے نکلتے ہیں اور ان کو لڑائی میں غنیمت کا مال ہاتھ آ جاتا ہے تو ان کا دو تہائی ثواب آخرت کا کم ہو جائے گا اور صرف ایک تہائی ثواب ملے گا لیکن اگر انہیں کوئی غنیمت ہاتھ نہ آئے تو ان کو پورا پورا ثواب ملے گا۔“ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی نسبت زیادہ واضح ہے کیونکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی لڑائی میں خالصہ جہاد فی سبیل اللہ کی نیت سے شامل ہوتا ہے اور اس میں کوئی ملونی دنیا کی نہیں ہوتی اور پھر اسے بغیر خیال اور امید کے غنیمت کا مال بھی مل جاتا ہے تو پھر بھی چونکہ اسے دنیا کے اموال سے حصہ مل گیا ہے اس لئے اس کا آخرت کا اجر کم ہو جائے گا۔لیکن جو شخص خالص جہاد کی نیت سے نکلتا ہے اور اسے غنیمت کا مال مطلقا نہیں ملتا وہ پورے پورے ثواب کا حق دار ہو گا۔گویا جہاں گزشتہ حدیث صحابہ کے دل میں دنیا کے اموال سے محض عدم رغبت پیدا کرتی تھی وہاں یہ حدیث دوری اور ایک قسم کی نفرت پیدا کرتی ہے اور اس تعلیم کے ہوتے ہوئے ایک سچا مسلمان نہ صرف یہ کہ غنیمت وغیرہ کا خیال تک دل میں نہیں لائے گا بلکہ غنیمت کے مواقع سے بھی حتی الوسع پر ہیز کرے گا اور اس کی یہی خواہش اور کوشش ہوگی کہ جس طرح بھی ہو غنیمت اسے نہ ملے تا کہ جہاد کے ثواب میں کمی نہ آئے۔چنانچہ کمز ور لوگوں کو الگ رکھ کر جس کا وجود کم و بیش ہر قوم میں پایا جاتا ہے مگر جو یقیناً صحابہ کی جماعت میں دنیا کی ہر قوم سے کمتر تعداد میں تھے صحابہ اس حقیقت کو خوب سمجھتے تھے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔چنانچہ ابو داؤد کی روایت میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح مسلم بن حارث نے ایک دشمن قبیلہ پر حملہ کر کے غنیمت حاصل کرنے کی بجائے اسلام کی تحریک کر کے مسلمان بنالیا اور خود غنیمت سے محروم ہو گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فعل کی بہت تعریف فرمائی اور اسے اپنی طرف سے ایک پروانہ خوشنودی عطا فرمایا۔پھر ابوداؤد ہی کی روایت ہے کہ جب ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ میں مدینہ سے ل مسلم و ابوداؤ دونسائی۔الفاظ مطابق ابوداؤد کتاب الجہاد