سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 342
۳۴۲ ساتھ اپنے گھروں سے نکالے گئے صرف اس بنا پر کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور اگر اللہ تعالیٰ نہ روکے ( دفاعی جنگ کی اجازت دے کر ) ایک قوم کو دوسری قوم کے خلاف تو یقیناً راہبوں کے صومعے اور عیسائیوں کے گرجے اور یہود کے معاہد اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں کثرت کے ساتھ خدا کا نام لیا جاتا ہے ایک دوسرے کے ہاتھ سے تباہ و برباد کر دی جاویں اور اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرتا ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ قومی اور غالب خدا ہے۔“ اس آیت کے الفاظ جس وضاحت اور صفائی کے ساتھ ابتدائی اسلامی جنگوں کی غرض وغایت اور اس وقت کے مسلمانوں کی حالت کو ظاہر کر رہے ہیں وہ کسی تفسیر کی محتاج نہیں ہے اور اگر غور سے دیکھا جاوے تو اس آیت سے چار باتیں ثابت ہوتی ہیں۔اول یہ کہ اس جنگ میں ابتدا کفار کی طرف سے تھی جیسا کہ يُقَاتَلُونَ “ کے لفظ سے ظاہر ہے۔دوسرے یہ کہ کفار مسلمانوں پر سخت ظلم کیا کرتے تھے اور ان کے یہی مظالم جنگ کا باعث تھے جیسا کہ بِانَّهُمْ ظُلِمُوا “ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔تیسرے یہ کہ کفار کی غرض یہ تھی کہ دین اسلام کو تلوار کے زور سے نیست و نابود کر دیں جیسا کہ لَهُدِّمَتْ “ کے لفظ میں اشارہ ہے۔چوتھے یہ کہ مسلمانوں کے اعلان جنگ کی غرض خود حفاظتی اور دفاع تھی جیسا کہ لَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ “ کے لفظ سے پایا جاتا ہے۔الغرض یہ آیت کریمہ جو جہاد بالسیف کے متعلق سب سے پہلی آیت ہے کمال صفائی کے ساتھ یہ بتا رہی ہے کہ ان جنگوں میں ابتداء کفار کی طرف سے تھی جو اسلام کو بزور مٹانا چاہتے تھے اور مسلمان مظلوم تھے اور انہوں نے محض خود حفاظتی اور دفاع میں تلوار اٹھائی تھی۔میں سمجھتا ہوں کہ مخالفین اسلام کی طرف سے جہاد بالسیف کے متعلق جتنے بھی اعتراض ہوئے ہیں ان کے جواب کے لئے یہی ایک آیت کافی ہے اگر کوئی سمجھے۔قرآن سب سے زیادہ صحیح تاریخی شہادت ہے اس جگہ ممکن ہے کسی کے دل میں یہ شبہ گزرے کہ قرآن تو خود مسلمانوں کی اپنی مذہبی کتاب ہے اس کی شہادت کو کس طرح یہ رتبہ دیا جا سکتا ہے کہ اس پر ایک اہم تاریخی واقعہ کی بنیا درکھی جاوے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا شبہ صرف اس شخص کے دل میں پیدا ہوسکتا ہے جوفن تاریخ اور اسلامی لٹریچر سے قطعاًنا واقف ہو۔قرآن کریم کا تو وہ مرتبہ ہے کہ جس کے مقابل میں اسلامی تاریخ کا کوئی دوسرا ریکارڈ کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔بھلا حدیث و تاریخ کی روایت کو باوجود محدثین اور مؤرخین کی اتنی چھان بین