سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 343 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 343

۳۴۳ کے قرآن کے مقابلہ میں کیا وزن حاصل ہو سکتا ہے؟ یہ صرف خوش عقیدگی کا دعوی نہیں ہے بلکہ ایک پتین صداقت ہے جس کو دوست و دشمن نے تسلیم کیا ہے۔بات یہ ہے کہ یہاں کسی مذہبی مسئلہ کا سوال نہیں ہے کہ کوئی غیر مسلم یہ کہ کر قرآن کے خیال کو رد کر دے کہ میں قرآنی تعلیم کو خدا کی طرف سے نہیں مانتا۔بلکہ یہاں تاریخی شہادت کا سوال ہے اور یہ مسلم ہے کہ تاریخی شہادت سب سے زیادہ صحیح اور سب سے زیادہ مستند وہی ہوتی ہے جو اس وقت کی ہو جبکہ کوئی واقعہ ہوا ہے اور ان لوگوں کی ہو جن کے سامنے وہ واقع ہوا ہے اور وہ اسی وقت ضبط تحریر میں آجاوے اور پھر اس کے بعد بھی ہر قسم کی تحریف سے پاک رہے اور اس جہت سے جو مرتبہ قرآن کریم کو حاصل ہے وہ ہر گز کسی اور کتاب کو حاصل نہیں ہے۔قرآن کریم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی نہ صرف ضبط تحریر میں آ گیا تھا بلکہ بہت سے حفاظ نے اس کو اپنے ذہنوں میں لفظ بلفظ محفوظ بھی کر لیا تھا اور اس کے بعد وہ آج تک ہر قسم کی تحریف سے پاک رہا ہے اور اب بھی بعینہ اسی شکل وصورت میں ہے جیسا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے زمانہ میں تھا۔چونکہ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے، میں اس بحث میں زیادہ وقت صرف نہیں کرنا چاہتا۔ورنہ میں بتاتا کہ قرآن کی صحت کامرتبہ کیسا عالی شان ہے اور اس کے مقابلہ میں کسی اور سند کولا نا صداقت کی ہتک کرنا ہے۔صرف بطور مثال کے دو شہادتیں پیش کرتا ہوں اور وہ بھی ان لوگوں کی جو مخالفین اسلام میں سے ہیں۔وَالْفَضْلُ مَا شَهِدَتْ بِهِ الْأَعْدَاءُ۔سرولیم میور جو ایک بہت مشہور انگریز مؤرخ گزرے ہیں اور جن کی کتاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سواخ میں غالباً سب مغربی کتب سے زیادہ متداول ہے وہ اپنی کتاب ”لائف آف محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) میں لکھتے ہیں : اس بات کی مضبوط ترین شہادت موجود ہے کہ مسلمانوں کا قرآن محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے وقت سے لے کر آج تک غیر محرف و مبدل رہا ہے۔“ پھر لکھتے ہیں : مسلمانوں کے قرآن کا ہماری انا جیل کے ساتھ مقابلہ کرنا جو بدقسمتی سے بہت کچھ محرف ومبدل ہوچکی ہیں دو ایسی چیزوں کا مقابلہ کرنا جن کو ایک دوسرے سے کوئی بھی مناسبت نہیں۔“ پھر لکھتے ہیں : اس بات کی پوری پوری اندرونی اور بیرونی ضمانت موجود ہے کہ قرآن اب بھی اسی