سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 338 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 338

۳۳۸ امن و عافیت کے ساتھ مدینہ پہنچ گئے ہیں تو جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے رؤسائے قریش نے مدینہ کے رئیس اعظم عبد اللہ بن اُبی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کے نام ایک خطرناک تہدیدی خط ارسال کیا جس میں لکھا کہ : إِنَّكُمْ اَوَيْتُمُ صَاحِبَنَا وَإِنَّا نَقْسِمُ بِاللَّهِ لَتُقَاتِلُنَّهُ اَوْ تُخْرِجُنَّهُ أَوْلَنَسِيْرَنَّ إِلَيْكُمُ بِأَجْمَعِنَا حَ نَقْتُلَ مَقَاتِلَتَكُمْ وَنَسْتَبِيحَ نِسَاءَ كُمْ یعنی تم لوگوں نے ہمارے آدمی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پناہ دی ہے اور ہمیں خدا کی قسم ہے کہ یا تو تم اس کا ساتھ چھوڑ کر اس کے خلاف جنگ کرو یا کم سے کم اسے اپنے شہر سے نکال دوور نہ ہم ضرور بالضرور اپنا سارا لا ولشکر لے کر تم پر حملہ آور ہو جائیں گے اور تمہارے مردوں کو قتل کر ڈالیں گے اور تمہاری عورتوں پر قبضہ کر کے انہیں اپنے لئے جائز کر لیں گے۔اس خط سے جو تشویش بے چارے مہاجرین کو دامن گیر ہو سکتی تھی وہ تو ظاہر ہی ہے لیکن انصار میں بھی اس نے ایک خطر ناک سنسنی پیدا کر دی۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ خود عبد اللہ بن ابی کے پاس تشریف لے گئے اور اسے یہ سمجھا کر ٹھنڈا کیا کہ تمہارے اپنے عزیز واقارب میرے ساتھ ہیں کیا تم اپنے جگر گوشوں سے جنگ کرو گے؟ انہی ایام کے قریب سعد بن معاذ رئیس اوس عمرہ کی غرض سے مکہ آئے تو انہیں دیکھ کر ابوجہل کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور اس نے بگڑ کر کہا کہ تم نے (نعوذ باللہ ) اس مرتد محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پناہ دی ہے کیا تمہارا خیال ہے کہ تم اس کی حفاظت کر سکو گے۔اس زمانہ میں قریش کو اسلام کے استیصال کا اتنا خیال تھا کہ ولید بن مغیرہ رئیس مکہ جب مرنے لگا تو بے اختیار ہوکر رونے لگ گیا۔لوگوں نے پوچھا کہ کیا تکلیف ہے۔اس نے جواب دیا۔میں ڈرتا ہوں کہ میرے بعد محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا دین نہ پھیل جاوے۔رؤساء قریش نے کہا تم فکرمند نہ ہو۔” ہم اس بات کے ضامن ہیں کہ اس کے دین کو نہیں پھیلنے دیں گے۔“ یہ سب ہجرت کے بعد کی باتیں ہیں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے مظالم سے تنگ آکر مکہ کو چھوڑ چکے تھے اور خیال کیا جاسکتا تھا کہ اب قریش مسلمانوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں گے۔پھر اسی پر بس نہیں بلکہ جب قریش نے دیکھا کہ اوس وخزرج مسلمانوں کی پناہ سے دستبردار نہیں ہوتے اور اندیشہ ہے کہ اسلام مدینہ میں جڑ نہ پکڑ جاوے تو انہوں نے دوسرے قبائل عرب کا دورہ کر کر کے ان کو مسلمانوں کے خلاف اکسانا شروع کر دیا اور چونکہ بوجہ خانہ کعبہ ل : ابوداؤد کتاب الخراج بخاری : تاریخ الخمیس