سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 337 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 337

۳۳۷ چوتھے یہ بھی ضروری تھا کہ جب تک خدا کی نظر میں آپ کی قوم اپنی کارروائیوں کی وجہ سے عذاب کی مستحق نہ ہو جاوے اور ان کو ہلاک کرنے کا وقت نہ آجاوے آپ ان میں مقیم رہیں اور جب وہ وقت آجاوے تو آپ وہاں سے ہجرت فرما جائیں۔کیونکہ سنت اللہ کے مطابق نبی جب تک اپنی قوم میں موجود ہوان پر ہلاک کر دینے والا عذاب نہیں آتا یے اور جب ہلاکت کا عذاب آنے والا ہوتو نبی کو وہاں سے چلے جانے کا حکم ہوتا ہے۔ان وجوہات سے آپ کی ہجرت اپنے اندر خاص اشارات رکھتی تھی مگر افسوس کہ ظالم قوم نے نہ پہنچانا اور ظلم و تعدی میں بڑھتی گئی ورنہ اگر اب بھی قریش باز آجاتے اور دین کے معاملہ میں جبر سے کام لینا چھوڑ دیتے اور مسلمانوں کو امن کی زندگی بسر کرنے دیتے تو خدا ارحم الراحمین ہے اور اس کا رسول بھی رحمتہ للعالمین تھا یقیناً اب بھی انہیں معاف کر دیا جاتا اور عرب کو وہ کشت وخون کے نظارے نہ دیکھنے پڑتے جو اس نے دیکھے، مگر تقدیر کے نوشتے پورے ہونے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت نے قریش کی عداوت کی آگ پر تیل کا کام دیا اور وہ آگے سے بھی زیادہ جوش و خروش کے ساتھ اسلام کو مٹانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ان غریب اور کمزور مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھانے کے علاوہ جو ابھی تک مکہ میں ہی تھے سب سے پہلا کام جو قریش نے کیا وہ یہ تھا کہ جو نہی کہ ان کو یہ علم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے بچ کر نکل گئے ہیں وہ آپ کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے اور وادی بلکہ کی چپہ چپہ زمین آپ کی تلاش میں چھان ماری اور خاص غار ثور کے منہ تک بھی جا پہنچےمگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی نصرت فرمائی اور قریش کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈال دیا کہ وہ عین منزل مقصود تک پہنچ کر خائب و خاسر واپس لوٹ گئے۔جب وہ اس تلاش میں مایوس ہوئے تو انہوں نے عام اعلان کیا کہ جو شخص بھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو زندہ یا مردہ پکڑ کر لائے گا اسے ایک سو اونٹ جو آج کل کی قیمت کے حساب سے قریباً بیس ہزار روپیہ بنتا ہے انعام دیا جائے گا اور اس انعام کے لالچ میں مختلف قبائل کے بیسیوں نوجوان آپ کی تلاش میں چاروں طرف نکل کھڑے ہوئے۔چنانچہ سراقہ بن مالک کا تعاقب جس کا ذکر کتاب کے حصہ اوّل میں گزر چکا ہے اسی انعامی علان کا نتیجہ تھا مگر اس تدبیر میں بھی قریش کو نا کامی کا منہ دیکھنا پڑا۔غور کیا جاوے تو دو قوموں میں جنگ چھڑ جانے کے لئے صرف یہی ایک وجہ کافی ہے کہ کسی قوم کے آقا وسردار کے متعلق دوسری قوم اس طرح انعام مقرر کرے۔بہر حال یہ تجویز بھی کارگر نہ ہوئی اور قریش کو علم ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ا : سورۃ انفال : ۳۴