سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 324
۳۲۴ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِن وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ اے رسول! تو کہہ دے لوگوں سے کہ یہ اسلام حق ہے تمہارے رب کی طرف سے پھر اس کے بعد جو چاہے اس پر ایمان لے آئے اور جو چاہے انکار کر دے۔“ پھر فرماتا ہے: قُلْ يَا يُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَ كُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ۚ فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِ ۚ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ o یعنی ”اے رسول ! تو لوگوں سے کہہ دے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آتا ہے پس اب جو شخص ہدایت کو قبول کرے گا تو اس کا فائدہ خود اسی کے نفس کو ہو گا اور جو غلط راستہ پر چلے گا اس کا وبال بھی خود اسی کی جان پر ہے اور میں کوئی تمہاری ہدایت کا ذمہ دار نہیں ہوں۔“ پھر فرماتا ہے: لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيْ ۚ فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنُ بِاللهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ : یعنی دین کے معاملہ میں جبر نہیں ہونا چاہئے۔ہدایت اور گمراہی کا معاملہ پوری طرح کھل چکا ہے۔پس اب جو شخص گمراہی کو چھوڑ کر اللہ پر ایمان لے آئے گا۔وہ گویا ایک نہایت مضبوط کڑے کو پکڑلے گا جو کبھی نہیں ٹوٹ سکتا اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔“ اس قرآنی آیت کی عملی تشریح میں ایک حدیث آتی ہے کہ فَلَمَّا أُجْلِيَتْ بَنُو نَضِيرٍ كَانَ فِيهِمُ مِنْ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا لَا نَدْعُ أَبْنَاءَ نَا فَانْزَلَ اللهُ تَعَالَى لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَى : یعنی جب بنو نضیر مدینہ سے جلا وطن کئے گئے تو ان میں وہ لوگ بھی تھے جو انصار کی اولاد تھے۔انصار نے انہیں روک لینا چاہا؟ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قرآنی آیت کے ماتحت ا : کهف : ۳۰ ے : سورة بقرة : ۲۵۷ : سورۃ یونس : ١٠٩ : ابوداؤ د کتاب الجہاد ۵ : زمانہ جاہلیت میں جب کسی اوسی یا خزرجی مشرک کے اولادیر بینہ نہ ہوتی تھی تو وہ منت مانتا تھا کہ اگر میرے ہاں کوئی لڑکا پیدا ہوا تو میں اسے یہودی بنا دوں گا۔اس طرح اوس و خزرج کے کئی بچے یہودی بن گئے تھے۔