سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 323 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 323

۳۲۳ نمونہ ہے جس سے زیادہ بختی اور سزا کی طرف مائل ہونا عدل اور رحم کے منافی ہے اور جس سے زیادہ نرمی اور رعایت کا طریق اختیار کرنا دنیا کے امن کے لئے سم قاتل۔درحقیقت اسلام کا دعویٰ ہے کہ وہ فطرت کا مذہب ہے اس لئے نہ تو وہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہر صورت میں ہر گناہ اور ہر جرم کی سزا ہونی چاہئے اور نہ وہ یہ سکھاتا ہے کہ کسی حالت میں بھی بدی کا مقابلہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ ہر دو تعلیمات افراط وتفریط کی راہیں ہیں اور ان پر عمل کرنے سے کبھی بھی امن قائم نہیں رہ سکتا اور نہ اقوام وافراد کے اخلاق کی اصلاح ہوسکتی ہے اور صحیح اور بچی تعلیم یہی ہے کہ جَزَ و سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ۚ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ على الله یعنی ”بدی اور جرم کی سزا اس کے مناسب حال ہونی چاہئے لیکن اگر عفو کرنے سے اصلاح ہوتی ہو تو عفو کرنا چاہئے اور اس رنگ میں عفو کرنے والا شخص خدا کے نزدیک اجر کا مستحق ہوگا۔یہ قرآنی آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جنگی ضابطہ اخلاق کا خلاصہ ہے اور آپ کی تمام جنگی کارروائیاں اسی آیت کی تفسیر ہیں۔کیا اسلام میں مذہب کے معاملہ میں جبر کرنا جائز ہے؟ ابتدائی اسلامی لڑائیوں پر نظر ڈالنے سے پیشتر ہمارا فرض ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ اسلام مذہبی معاملات میں جبر کرنے کے متعلق کیا تعلیم دیتا ہے۔یعنی کیا اسلامی تعلیم کی رو سے یہ جائز ہے کہ لوگوں کو جبراً اسلام میں داخل کیا جاوے اور تلوار کے ذریعہ اسلام پھیلا یا جاوے۔اگر اسلام جبر کی اجازت دیتا ہے تو پھر بیشک معاملہ مشتبہ ہو جائے گا۔کیونکہ اس صورت میں اس بات کا امکان ہوگا کہ شاید ابتدائی اسلامی جنگیں بھی لوگوں کو بزور مسلمان بنانے کی غرض سے کی گئی ہوں لیکن اگر یہ ثابت ہو کہ اسلامی تعلیم کی رو سے مذہب میں جبر ممنوع ہے تو پھر یہ ایک قوی ثبوت اس بات کا ہوگا کہ یہ ابتدائی اسلامی لڑائیاں لوگوں کو جبراً مسلمان بنانے کی غرض سے نہ تھیں بلکہ ان کی وجوہات کوئی اور تھیں کیونکہ یہ ہرگز ممکن نہیں اور کوئی عقل مند سے قبول نہیں کر سکتا کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ایسے بر ملا طور پر اس تعلیم کے خلاف قدم مارا ہو جو وہ خدا کی طرف منسوب کر کے لوگوں کو سناتے تھے اور جس پر ان کی قومی ہستی کا دارو مدار تھا۔اب ہم قرآن شریف پر نظر ڈالتے ہیں تو وہاں صریح طور پر جبری اشاعت کے خلاف احکام پاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: : سورۃ شوری: ۴۱