سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 316 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 316

۳۱۶ کو پناہ دینے کے بعد تم لوگ امن کے ساتھ کعبہ کا طواف کر سکو گے اور تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم اس کی حفاظت اور امداد کی طاقت رکھتے ہو؟ خدا کی قسم اگر اس وقت تیرے ساتھ ابو صفوان نہ ہوتا تو تو اپنے گھر والوں کے پاس بیچ کر نہ جاسکتا؟ سعد بن معاذ فتنہ سے بچتے تھے مگر ان کی رگوں میں بھی ریاست کا خون تھا اور دل میں ایمانی غیرت جوش زن تھی۔کڑک کر بولے ”واللہ اگر تم نے ہم کو کعبہ سے روکا تو یا درکھو کہ پھر تمہیں بھی تمہارے شامی راستے پر امن نہیں مل سکے گا۔امیہ نے کہا ”سعد! دیکھو ابوالحکم سید اہل وادی کے مقابلہ میں یوں آواز بلند نہ کرو۔سعد نے جواب دیا ” جانے دو امیہ ! تم اس بات میں نہ آؤ۔واللہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی نہیں بھولتی کہ تم کسی دن مسلمان کے ہاتھ سے قتل ہو گے۔یہ خبر سن کرامیہ بن خلف سخت گھبرا گیا اور گھر میں آکر اس نے اپنی بیوی کو سعد کی اس بات سے اطلاع دی اور کہا کہ خدا کی قسم میں تو اب مسلمانوں کے خلاف مکہ سے نہیں نکلوں گا مگر تقدیر کے نوشتے پورے ہونے تھے۔بدر کے موقع پر امیہ کو مجبوراً مکہ سے نکلنا پڑا اور وہیں وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل ہوکر اپنے کیفر کردار کو پہنچا۔یہ امیہ وہی تھا جو حضرت بلال پر اسلام کی وجہ سے نہایت سخت مظالم کیا کرتا تھا۔ولید بن مغیرہ کی موت اور قریش کے خونی ارادے پھر اسی زمانہ کی بات ہے کہ خالد بن ولید کا والد ولید بن مغیرہ جو مکہ کا ایک نہایت با اثر اور معزز رئیس تھا بیمار ہو گیا اور جب اس نے دیکھا کہ اب اس کی موت قریب ہے تو وہ بے اختیار سا ہو کر رونے لگ گیا اس وقت مکہ کے بعض بڑے بڑے رئیس اس کے پاس بیٹھے تھے۔انہوں نے حیران ہو کر اس کے رونے کا سبب پوچھا تو ولید نے کہا ” کیا تم سمجھتے ہو کہ میں موت کے ڈر سے روتا ہوں۔واللہ ایسا ہر گز نہیں۔مجھے تو یہ غم ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دین پھیل جائے اور مکہ بھی اس کے قبضہ میں چلا جائے۔ابوسفیان بن حرب نے جواب دیا کہ اس بات کا غم نہ کرو۔جب تک ہم زندہ ہیں ایسا نہیں ہوگا ، ہم اس بات کے ضامن ہوتے ہیں۔مدینہ میں خوف کی راتیں یہ تمام باتیں قریش مکہ کے ان خونی ارادوں کا پتہ دے رہی ہیں جو وہ ہجرت کے بعد اسلام کے متعلق رکھتے تھے اور مسلمان ان ارادوں سے ،، ناواقف نہ تھے بلکہ خوب سمجھتے تھے کہ مکہ والوں کے یہ بدلے ہوئے تیور عنقریب کوئی رنگ لائیں گے اور گوان کو خدا کے وعدوں پر پورا بھروسہ تھا لیکن فطرتاً وہ سخت خوفزدہ اور پریشان بھی تھے کہ دیکھئے ہمیں : بخاری کتاب المغازی ۲ : تاریخ الخمیس جلد اصفحه ۳۹۸