سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 317
۳۱۷ کن کن مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔شروع شروع میں تو یہ خوف ایسا غالب تھا کہ صحابہ کو مدینہ میں رات کے وقت نیند نہیں آتی تھی کہ نہ معلوم کس وقت ان پر کوئی حملہ ہو جاوے اور یہ خطرات طبعاً دوسرے مسلمانوں کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے زیادہ تھے اور چونکہ ویسے بھی آپ کوسب کی نسبت مسلمانوں کی حفاظت کا زیادہ فکر تھا اس لئے آپ سب سے زیادہ محتاط تھے۔چنانچہ نسائی میں ایک روایت آتی ہے کہ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ أَوَّلُ مَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ يَسْهَرُ مِنَ الَّيلِ یعنی جب شروع شروع میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو آپ عمو ماراتوں کو جاگتے رہتے تھے۔اور اسی مضمون کی ایک روایت بخاری اور مسلم کے میں ہے کہ ارق النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ثُمَّ قَالَ لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرِسُنِي اللَّيْلَةَ إِذَا سَمِعْنَا صَوْتَ السّلَاحِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ يَارَسُولَ اللهِ جِئْتُ اَحْرَسَكَ فَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - یعنی ایک رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت دیر تک جاگتے رہے اور پھر فرمایا کہ اگر اس وقت ہمارے دوستوں میں سے کوئی مناسب آدمی پہرہ دیتا تو میں ذرا سولیتا۔اتنے میں ہم نے ہتھیاروں کی جھنکار سنی۔آپ نے پوچھا کون ہے؟ آواز آئی۔یا رسول اللہ ! میں سعد بن ابی وقاص ہوں۔میں اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ پہرہ دوں۔اس اطمینان کے بعد آپ تھوڑی دیر کے لئے سو گئے۔اور مسلم کے اسی باب کی دوسری روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ابتدائے ہجرت کا ہے۔یادرکھنا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فکر اپنی ذات کے متعلق نہ تھا بلکہ اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کا فکر تھا اور ان خوف کے ایام میں آپ یہ ضروری خیال فرماتے تھے کہ مدینہ میں رات کے وقت پہرہ کا انتظام رہے چنانچہ اس غرض سے بسا اوقات آپ خود رات کو جا گا کرتے اور دوسرے مسلمانوں کو بھی ہوشیار و چوکس رہنے کی تاکید فرماتے تھے اور آپ کا یہ فکر ڈریا بزدلی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ احتیاط اور بیدار مغزی کی بناء پر تھا۔ورنہ آپ کی ذاتی شجاعت اور مردانگی تو دوست و دشمن میں مسلم ہے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ ایک رات مدینہ میں کچھ شور ہوا اور لوگ گھبرا کر گھروں سے نکل آئے اور جس طرف سے شور کی آواز آئی تھی ادھر کا رخ کیا۔ابھی وہ تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ سامنے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تلوار حمائل کئے ابوطلحہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار واپس تشریف لا رہے تھے۔جب آپ قریب آئے تو آپ نے صحابہ سے فرمایا۔”میں دیکھ آیا ہوں کوئی فکر ل : دیکھو فتح الباری جلد ۶ صفحه۶۰ : کتاب التمنی سے : باب فضل سعد بن ابی وقاص