سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 315 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 315

۳۱۵ طرح بھی ہو اسلام کے نام و نشان کو صفحہ دنیا سے مٹا دیا جاوے۔مسلمان ان کے مظالم سے تنگ آ کر حبشہ گئے تو وہاں انہوں نے ان کا پیچھا کیا اور اس بات کی کوشش میں اپنی انتہائی طاقت صرف کر دی کہ نیک دل نجاشی ان مظلوم غریب الوطنوں کو مکہ والوں کے حوالے کر دے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آگئے تو قریش نے آپ کا تعاقب کر کے آپ کو گرفتار کر لینے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا اور اب جب انہیں یہ علم ہوا کہ آپ اور آپ کے اصحاب مدینہ پہنچ گئے ہیں اور وہاں اسلام سرعت کے ساتھ پھیل رہا ہے تو انہوں نے یہ تہدیدی خط بھیج کر مدینہ والوں کو آپ کے ساتھ جنگ کر کے اسلام کو ملیا میٹ کر دینے یا آپ کی پناہ سے دستبردار ہو کر آپ کو مدینہ سے نکال دینے کی تحریک کی۔قریش کے اس خط سے عرب کی اس رسم پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ وہ جنگوں میں اپنے دشمنوں کے سارے مردوں کو قتل کر کے ان کی عورتوں پر قبضہ کر لیا کرتے تھے اور پھر ان کو اپنے لئے جائز سمجھتے تھے اور نیز یہ کہ مسلمانوں کے متعلق ان کے ارادے اس سے بھی زیادہ خطر ناک تھے۔کیونکہ جب یہ سزا انہوں نے مسلمانوں کے پناہ دینے والوں کے لئے تجویز کی تھی تو خود مسلمانوں کے لئے تو یقیناً وہ اس سے بھی زیادہ سخت ارادے رکھتے ہوں گے۔ابو جہل کی دھمکی قریش مکہ کا یہ خط ان کے کسی عارضی جوش کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ مستقل طور پر اس بات کا تہیہ کر چکے تھے کہ مسلمانوں کو چین نہیں لینے دیں گے اور اسلام کو دنیا سے مٹاکر چھوڑیں گے۔چنانچہ ذیل کا تاریخی واقعہ قریش مکہ کے خونی ارادوں کا پتہ دے رہا ہے۔بخاری میں روایت آتی ہے کہ ہجرت کے کچھ عرصہ بعد سعد بن معاذ جو قبیلہ اوس کے رئیس اعظم تھے اور مسلمان ہو چکے تھے عمرہ کے خیال سے مکہ گئے اور اپنے زمانہ جاہلیت کے دوست امیہ بن خلف رئیس مکہ کے پاس مقیم ہوئے۔چونکہ وہ جانتے تھے کہ مکہ والے ان کے ساتھ ضرور چھیڑ چھاڑ کریں گے اس لئے انہوں نے فتنہ سے بچنے کے لئے امیہ سے کہا کہ میں کعبتہ اللہ کا طواف کرنا چاہتا ہوں تم میرے ساتھ ہوکرایسے وقت میں مجھے طواف کرا دو جبکہ میں علیحدگی میں امن کے ساتھ اس کام سے فارغ ہو کر اپنے وطن واپس چلا جاؤں۔چنانچہ امیہ بن خلف دو پہر کے وقت جبکہ لوگ عموماً اپنے اپنے گھروں میں ہوتے ہیں سعد کو لے کر کعبہ کے پاس پہنچا لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ عین اسی وقت ابو جہل بھی وہاں آنکلا اور جونہی اس کی نظر سعد پر پڑی اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا مگر اپنے غصہ کو دبا کر وہ امیہ سے یوں مخاطب ہوا کہ ”اے ابو صفوان یہ تمہارے ساتھ کون شخص ہے امیہ نے کہا۔” یہ سعد بن معاذ رئیس اوس ہے۔“ اس پر ابو جہل نہایت غضبناک ہو کر سعد سے مخاطب ہوا کہ ” کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ اس مرتد محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )