سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 292 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 292

۲۹۲ ہے۔یہی وجہ ہے کہ مدینہ کے باشندے قدیم زمانہ سے عموماً زراعت پیشہ رہے ہیں۔مدینہ میں گرمی شدت کی پڑتی ہے اور سرما میں سردی بھی بہت تیز ہوتی ہے اور جس زمانہ کا ہم ذکر کر رہے ہیں اس میں مدینہ میں ملیریا وغیرہ کی وبا بھی بہت پڑتی تھی اور لوگ بخار سے سخت تکلیف اٹھاتے تھے۔چنانچہ جب شروع شروع میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب مدینہ میں ہجرت کر کے آئے تو بوجہ آب و ہوا کی تبدیلی کے انہوں نے بہت تکلیف اُٹھائی اور بہت سے مسلمان بخار میں مبتلا ہو گئے اور ان کی صحتوں کو بہت نقصان پہنچا۔چنانچہ احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دعا مروی ہے جو آپ نے مسلمانوں کی اس تکلیف کو دیکھ کر خدا کے حضور کی اور جس کے نتیجہ میں خدا نے مسلمانوں کو اس تکلیف سے نجات دی اور مدینہ کی فضا ایک بڑی حد تک وبائی جراثیم سے پاک ہوگئی ہے اس زمانہ میں مدینہ کی آبادی اکٹھی نہیں تھی بلکہ کسی قدر پھیلی ہوئی تھی اور ہر قوم الگ الگ حصوں میں آباد تھی اور خود حفاظتی کے لئے سب نے اپنے اپنے واسطے چھوٹے چھوٹے قلعے سے بنارکھے تھے۔پرانی روایات سے پتہ لگتا ہے کہ یثرب میں سب سے پہلے آباد ہونے والے لوگ عمالیق قوم کے آدمی تھے جنہوں نے وہاں کھجوروں کے باغات لگائے اور چھوٹے چھوٹے قلعے تیار کئے۔ان کے بعد یہودی لوگ آباد ہوئے۔ان یہود کے متعلق روایات میں اختلاف ہے کہ وہ نسلاً عرب تھے یا کہ باہر سے آئے تھے۔مگر عام مؤرخین کی رائے یہی ہے کہ وہ زیادہ تر بنی اسرائیل تھے جو اپنے وطن سے نکل کر عرب میں آکر آباد ہو گئے تھے اور پھر بعد میں آہستہ آہستہ عرب کے بعض اصلی باشندے بھی ان کا مذہب اختیار کر کے ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔بہر حال عمالیق کے بعد مدینہ میں یہود آ کر آباد ہوئے اور انہوں نے آہستہ آہستہ عمالیق کو نیست و نابود یا جلاوطن کر کے ان کی جگہ خود لے لی۔یہ یہود تین بڑے قبائل میں منقسم تھے یعنی بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ۔یہ تینوں قبائل شروع میں عموماً بہت اتفاق اور اتحاد کے ساتھ رہتے تھے۔ان یہود نے بھی اس زمانہ کے دستور کے مطابق اپنی رہائش کے لئے چھوٹے چھوٹے قلعے تیار کئے جو ایک دوسرے سے ملحق نہ تھے بلکہ تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر مدینہ کے آس پاس پھیلے ہوئے تھے۔یہود کا پیشہ عموماً تجارت تھا، ان میں سے بعض زراعت کا شغل بھی رکھتے تھے۔بنو قینقاع زیادہ تر صناعی کا کام کرتے تھے۔یہود چونکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی نسبت زیادہ مہذب و متمدن تھے اور تعلیم میں بھی آگے تھے۔اس لئے انہوں نے مدینہ کے گردو نواح میں اپنا اثر پیدا کرنا شروع کیا اور جلد ہی بہت اقتدار حاصل : بخاری ابواب الہجرت۔ابن ہشام جلد اصفحہ ۲۱۵۔میں جلد اصفحہ ۳۹۵