سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 293
۲۹۳ کر لیا۔وہ اسی اقتدار کی حالت میں تھے کہ یمن کی طرف سے بنو قحطان کے دو قبیلے جو اوس اور خزرج کے نام سے پکارے جاتے تھے مدینہ میں آکر آباد ہوئے۔یہ قبائل ایک شخص حارثہ بن ثعلبہ کے دو بیٹوں اوس اور خزرج کی اولاد تھے اور آپس میں بہت اتفاق و محبت کے ساتھ رہتے تھے۔شروع شروع میں تو وہ یہود سے بالکل الگ تھلگ رہے لیکن آخر یہود کے زور اقتدار کی وجہ سے اُن کے حلیف بن گئے۔اس کے بعد آہستہ آہستہ اوس وخزرج نے بھی پھیلنا اور زور پکڑنا شروع کیا اور کچھ کچھ یہود کی ہمسری کا دم بھر نے لگے لیکن چونکہ یہودی لوگ زیادہ ہوشیار اور زیادہ متمدن اور زیادہ با اثر ہونے کے علاوہ تعلیم اور اُمور مذہبی میں بھی زیادہ دخل رکھتے تھے اور اوس و خزرج محض بت پرست اور عموماً جاہل تھے اس لئے اوس وخز رج پر یہود کا ایک گہرا اثر تھا حتی کہ جب کبھی کسی اوسی یا خزرجی شخص کے کوئی نرینہ اولاد نہ ہوتی تو وہ یہ منت مانتا تھا کہ اگر میرے گھر لڑکا پیدا ہوا تو میں اُسے یہودی بناؤں گا۔چنانچہ اسی طرح کئی لوگ یہودی بن گئے اور ان کا زوردن بدن بڑھتا گیا۔حتیٰ کہ یہودیوں نے اپنی طاقت کے گھمنڈ میں اوس وخزرج پر طرح طرح کے مظالم شروع کر دئے جس کے نتیجہ میں یہود اور اوس وخزرج کے تعلقات بہت خراب ہو گئے اور بالآخر مؤخر الذکر قبائل نے تنگ آکر ریاست غسان کے فرمانروا کی امداد سے یہود کے تمام سر بر آوردہ لوگوں کو ہوشیاری سے قتل کروا دیا۔جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ یہود کا زور ٹوٹ گیا اور اوس وخزرج شہر میں طاقت پکڑ گئے لیکن یہود کے کمزور ہو جانے کا آہستہ آہستہ یہ اثر بھی ظاہر ہونے لگا کہ اوس و خزرج جو اس وقت تک یہود کے مقابلہ کی وجہ سے آپس میں اتحاد واتفاق کے ساتھ رہتے تھے اب آپس میں لڑنے اور جھگڑنے لگ گئے اور بالآخر یہ خانہ جنگیاں ایسی وسیع اور خطر ناک صورت پکڑ گئیں کہ دونوں تو میں آپس میں ایک دوسرے کے ہاتھ سے کٹ کٹ کر بہت کمزور ہوگئیں اور یہود کو جو غالباً اس خانہ جنگی کی آگ کو بھڑ کانے والے تھے پھر طاقت پکڑ جانے کا موقع مل گیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ اوس وخزرج نے پھر یہودی قبائل کی امداد کا سہارا ڈھونڈا اور ایک دوسرے کے خلاف ان کی مدد چاہی۔چنانچہ بنو قینقاع قبیلہ خزرج کے حلیف بن گئے اور بنو نضیر اور بنوقریظہ قبیلہ اوس کے ، اور اس طرح سارا شہر ایک خطر ناک خانہ جنگی کی آگ سے شعلہ بار ہوگیا۔اہل میثرب اسی خانہ جنگی کی حالت میں تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا سے حکم پا کر مکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا۔چنانچہ اوس و خزرج کے درمیان آخری جنگ جو تاریخ عرب میں جنگ بعاث کے نام سے مشہور ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ نبوت میں ہی ہوئی تھی جب کہ آپ مکہ میں مقیم