سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 291
۲۹۱ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مدینہ کا ابتدائی قیام اور حکومت اسلامی کی تاسیس مدینہ کے حالات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی ہجرت کا بیان کتاب کے حصہ اول میں گزر چکا ہے۔اب ہجرت کے بعد سے آپ کی مدنی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔لیکن پیشتر اس کے کہ ہم آپ کی مدنی زندگی کا بیان شروع کریں یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ خود مدینہ اور اس کی آبادی کا مختصر حال بیان کر دیا جاوے کیونکہ اس کے بغیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کے بعض حالات کا پوری طرح سمجھنا مشکل ہے۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے قبل مدینہ کا شہر یثرب کے نام سے مشہور تھا لیکن آپ کی ہجرت کے بعد لوگ اسے مدينة الرسول (یعنی خدا کے رسول کا شہر ) کہہ کر پکارنے لگے اور پھر آہستہ آہستہ اس کا نام صرف مدینہ مشہور ہو گیا۔مدینہ عرب کے علاقہ حجاز کا قدیم شہر ہے جو مکہ سے شمال کی طرف دواڑھائی سو میل کے فاصلہ پر بحر احمر کے مشرقی ساحل سے قریباً پچاس میل مشرق کی طرف ہٹ کر واقع ہے۔گویا مدینہ اس قدیم مگر صحرائی تجارتی راستے کے قرب میں آباد ہے جو مکہ سے شام کی طرف جاتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ مکہ اور شام کے درمیان آنے جانے والے تاجر بعض اوقات راستے سے کچھ ہٹ کر مدینہ میں بھی قیام کرتے جاتے تھے اور اس لئے مکہ اور مدینہ کے بہت سے لوگ آپس میں روشناس تھے اور بعض تو ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلقات بھی رکھتے تھے۔جگہ کے لحاظ سے مدینہ کو ایک وادی کہنا چاہئے جو چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں سے گھری ہوئی تھی اور انہی پہاڑیوں میں سے ایک پہاڑی اُحد تھی جہاں بعد میں مسلمانوں اور کفار مکہ کے درمیان ایک نہایت خطرناک جنگ وقوع میں آئی۔عرب کے دوسرے مقامات کے مقابلہ میں مدینہ میں بارش عموماً خاصی ہو جاتی ہے اور زمین بھی ویسی رتیلی اور ناقص نہیں جوعمو ماعرب کے دوسرے حصوں میں پائی جاتی