سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 276
لیے مکی آیات میں زیادہ تر شرک اور بت پرستی ہی کی تردید کی گئی ہے اور ہستی باری تعالیٰ اور توحید کے دلائل بیان کئے گئے ہیں۔اس کے بعد سلسلہ رسالت کی حقانیت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا ثبوت اور اس پر کفار کے اعتراضوں کے جوابات اور گذشتہ انبیاء کے حالات مذکور ہیں۔پھر ملائکہ کے وجود، قیامت، جزا سزا، جنت و دوزخ ، تقدیر وغیرہ کے مسائل پر دلچسپ بحثیں ہیں۔اس کے علاوہ جاہلانہ رسوم اور بدعات سے روکا گیا ہے اور نیک عادات واخلاق حسنہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور پھر اس سے اعلیٰ مقام یعنی عرفان الہی کی راہوں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے طریقوں کی طرف راہنمائی کی گئی ہے۔عبادات میں مکی سورتیں سوائے نماز کے حکم کے باقی سب احکام سے خالی ہیں؛ چنانچہ حج ، روزہ، زکوۃ کا کہیں ذکر نہیں آتا، کیونکہ یہ سب مدینہ میں فرض ہوئے تھے۔جہاد بالسیف کا ذکر بھی مکی آیات میں نہیں ملتا کیونکہ مکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عفو کا حکم تھا اور کفار پر اتمام حجت کیا جا رہا تھا۔پھر جب اتمام حجت ہو چکا اور کفار اپنے مظالم سے باز نہ آئے بلکہ دن بدن ترقی کرتے گئے۔حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو اپنے وطن سے بے وطن ہونا پڑا اور پھر ہجرت کے بعد بھی قریش نے مسلمانوں کا پیچھا نہ چھوڑ ا تب جا کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہاد بالسیف کی اجازت نازل ہوئی۔اسی طرح چونکہ مکہ میں اسلامی سوسائٹی کی بالکل ابتدائی حالت تھی بلکہ حق تو یہ ہے کہ مکہ میں کوئی اسلامی سوسائٹی تھی ہی نہیں کیونکہ قریش کے بے دردانہ مظالم نے سب کو منتشر کر رکھا تھا اس لیے مکی سورتوں میں تمدنی احکام بھی نظر نہیں آتے۔اسی طرح سیاسی احکام بھی مکی سورتوں میں مفقود ہیں۔گویا فقہی مسائل سے مکی سورتیں قریباً قریباً خالی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مکی سورتیں عام طور پر بہت چھوٹی ہیں اور ان کی زبان بھی زیادہ زور دار ، جوش والی اور موزوں ہے بمقابلہ مدنی سورتوں کے جن میں احکام کی کثرت اور فقہی مسائل کی پیچیدگیوں کی وجہ سے طرز بیان میں مناسب تبدیلی آگئی ہے اور یہ تبدیلی نہایت موزوں اور بر محل ہے کیونکہ بلاغت اسی میں ہے کہ طرز کلام واقعات کے مناسب حال ہو۔مسئلہ ارتقا یعنی درجہ بدرجہ ترقی کرنا ایک مسلم مسئلہ ہے اور گو اس کی وہ صورت جو اہل مغرب ارتقاء نبوی پیش کرتے ہیں درست نہ ہو مگر جہاں تک اصول کا تعلق ہے اس میں شبہ نہیں کہ دن بدن اس کی حقانیت پر زیادہ سے زیادہ روشنی پڑتی جارہی ہے۔درحقیقت اللہ تعالیٰ نے خود اس مسئلہ کو قرآن شریف میں متعدد موقعوں پر بیان کیا ہے اور اس کی طرف توجہ دلائی ہے اور انسانی پیدائش کے بیان