سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 277
۲۷۷ میں تو خلق آدم کے ارتقائی مراحل بھی صراحت کے ساتھ بیان کئے ہیں۔دراصل اللہ تعالیٰ کے تمام کاموں میں تدریجی ترقی کا اصول نمایاں طور پر کام کرتا نظر آتا ہے اور اگر غور کیا جائے تو یہی اصول انبیاء علیہم السلام کے حالات زندگی میں پایا جاتا ہے۔جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ انبیاء کا وجود کسی فوری انقلاب کا نتیجہ ہوتا ہے وہ بالکل غلط سمجھا ہے اور اس نے نبوت کی حقیقت پر بالکل غور نہیں کیا کیونکہ جس طرح صحیفہ قدرت پر ہراک چیز تدریجا بنتی ہے اسی طرح انبیاء بھی اپنی نبوت میں تدریجا نشو ونما پاتے ہیں اور قطعاً کسی فوری انقلاب کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ آہستہ آہستہ کئی درمیانی حالتوں میں سے گذرنے کے بعد اُس آخری مقام کو حاصل کرتے ہیں جس پر ان کے مراتب سلوک ختم ہوتے ہیں۔تمام انبیاء جس طرح جسمانی لحاظ سے مراحل خلق میں سے گذرتے ہوئے پیدا ہوئے پھر انہوں نے اپنے بچپن کے دن گزارے۔پھر وہ نوجوان ہوئے اور پھر اپنی پختگی کو پہنچے۔اسی طرح روحانی لحاظ سے بھی وہ پہلے پیدا ہوتے ہیں اور پھر درجہ بدرجہ آہستہ آہستہ اپنی پختگی کو پہنچتے ہیں اور پھر مقام نبوت میں بھی وہ ایک جگہ نہیں ٹھہرتے بلکہ دن بدن شاہراہ ترقی پر آگے قدم بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔یہ تدریجی نشو ونما قانون فطرت کے عین مطابق ہے اور فوری انقلاب کے بداثرات سے محفوظ رکھتا ہے نیز اور بھی کئی طرح سے مفید بلکہ ضروری ہوتا ہے مگر اس جگہ اس مسئلہ کی تفصیلات کی گنجائش نہیں اس جگہ ہمیں مختصر طور پر صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی میں یہ تدریجی نشو و نما کس طریق پر کام کرتا نظر آتا ہے۔سو اختصار کی غرض سے ہم آپ کی ابتدائی زندگی سے قطع نظر کر کے صرف دعوئی اور اس کے مقدمات سے آپ کی زندگی کا مطالعہ شروع کرتے ہیں۔سب سے اول ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاش حق میں ترک دنیا کا طریق اختیار کیا اور خلوت میں رہنا شروع کیا۔اس پر ایک عرصہ گذرا تو آپ پر رویا صادقہ کا دروازہ کھولا گیا اور آپ کو سچے خواب آنے شروع ہوئے جو اپنے وقت پر پورے ہو ہو کر آپ کی پختگی کا موجب ہوتے رہے اور یہ سلسلہ کئی ماہ تک جاری رہا۔جب آپ اس کوچے سے ایک حد تک آشنا ہو گئے اور طبیعت نبوت کے مناسب حال پختگی کو پہنچ گئی تو غار حرا میں آپ کے پاس الہی فرشتہ آیا اور اُس نے اللہ کی طرف سے آپ کے ساتھ کلام کیا اور رویا صادقہ سے اوپر کا مقام آپ پر کھولا گیا لیکن باوجود اس کے کہ آپ اس کو چہ سے آشنا ہو چکے تھے آپ کی طبیعت اس تبدیلی کو پہلی دفعہ پوری طرح برداشت نہیں کر سکی اور آپ سخت خوفزدہ سوره مومنون : ۱۲ تا ۱۵