سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 275 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 275

۲۷۵ سے بالا نہیں مگر اس کی ہستی کی گنہ کو سمجھنا یقینا عقل انسانی سے بالا و برتر ہے۔ایک گراموفون کو ہی دیکھو۔کیا انسان کی طرح اس کی بھی کوئی زبان ہے جس سے وہ بولتا ہے؟ پس جب مخلوق اور ادنی چیزوں میں اس قدر اختلاف موجود ہے تو خدا جیسی خالق و مالک ، اول و آخر ، از لی وابدی ،لطیف و غیر محدود قادر مطلق ہستی کو انسان پر قیاس کرنا کس قدر جہالت کا فعل ہوگا۔جمع قرآن جمع قرآن کے متعلق اصل بحث تو کتاب کے حصہ دوم میں آئے گی مگر اس جگہ ایک مختصر نوٹ میں ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ قرآن شریف جو ہم مسلمانوں کی مذہبی کتاب ہے اور جسے ہم اللہ کا کلام سمجھتے ہیں جو اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ا تا را یکلخت نازل نہیں ہوا بلکہ آہستہ آہستہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نازل ہوا تھا اور اس تدریجی نزول میں کئی حکمتیں ہیں۔جن کے بیان کی اس جگہ ضرورت نہیں جو سورتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہجرت سے پہلے نازل ہوئی ہیں وہ مکی سورتیں کہلاتی ہیں اور بعد کی مدنی۔قرآن شریف کا جو جو حصہ نازل ہوتا جاتا تھا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو سنا دیتے تھے اور بعض کو یاد کر وا دیتے تھے اور اس کے مختلف نسخے لکھوا بھی دیتے تھے۔جس کے لیے آپ نے اپنے خواندہ صحابیوں میں سے متعدد کاتب وحی مقرر کیے ہوئے تھے ، چنانچہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب زمانہ جاہلیت میں حضرت عمرؓ غصہ کی حالت میں اپنی بہن کے گھر میں داخل ہوئے تو اس وقت ان کے پاس لکھا ہوا قرآن شریف موجود تھا جس پر سے خباب بن الارت تلاوت کر کے حضرت عمر کی بہن اور بہنوئی کو سنا ر ہے تھے۔قرآنی سورتیں قرآن شریف میں اسی ترتیب سے نہیں رکھی گئیں جس ترتیب سے ان کا نزول ہوا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود الہی حکم کے ماتحت اُن کی ایک خاص ترتیب مقرر فرما دی۔چنانچہ ہر سورۃ کے ختم ہونے پر آپ ہدایت فرماتے تھے کہ اسے فلاں موقع پر رکھو۔اسی طرح ہر آیت کے نزول پر بھی خود فرماتے تھے کہ اسے فلاں سورۃ میں فلاں جگہ ڈالو یا جو ترتیب قرآنی آیات اور سورتوں کی آپ نے خدائی تفہیم کے ماتحت مقرر فرمائی وہی اب تک موجود ہے اور غور و تدبر کرنے والوں پر اس ترتیب کی خوبی مخفی نہیں رہ سکتی۔مکی سورتیں چونکہ مکہ میں نزول شریعت کی ابتدا تھی اس لیے زیادہ تر عقائد کی اصولی باتوں پر ہی اکتفا کی گئی ہے۔ویسے بھی چونکہ مکہ میں صرف مشرکین اور بت پرست بستے تھے اس لے : ابوداؤ د ترندی و مسند احمد بحوالہ مشکوة کتاب فضائل القرآن وفتح الباری جلد ۹ صفحه ۱۹-۲۰