سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 272 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 272

۲۷۲ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کلام الہی کے تین طریق بتائے ہیں: اول۔وحی یعنی براہ راست لفظی کلام جس کی دوصورتیں ہو سکتی ہیں : (الف) یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی الفاظ براہ راست انسان کے کانوں میں پہنچیں۔وحی کی یہ صورت عموماً سب سے زیادہ بارعب اور شاندار ہوتی ہے۔(ب) یہ کہ اس کی زبان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی الفاظ جاری کیے جائیں۔ان دونوں طریقوں کو اسلامی اصطلاح میں وحی کہتے ہیں۔دوسرے۔مِنْ وَرَآئِ حِجَابٍ یعنی کسی تحریر کے سامنے آجانے یا کشف یا خواب یا قلبی القا وغیرہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی امر بندہ پر ظاہر ہو۔تیرے يُرْسِلَ رَسُولًا - یعنی اللہ تعالیٰ کا کوئی فرشتہ وغیرہ بندہ کے پاس آوے اور خدا کی طرف سے اس کے ساتھ کلام کرے۔اسی کے مطابق حدیث میں حضرت عائشہؓ کی روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟ اس پر آپ نے فرمایا کہ: أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ اشَدُّهُ عَلَيَّ فَيُفْصَمُ عَنِّى وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ وَ اَحْيَانًا يَتَمَثَلُ لِىَ الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَاعِيَ مَا يَقُولُ یعنی " کبھی تو میرے پاس وحی آتی ہے گھنٹی کی چھنکار کی طرح ( تا کہ ٹیلیفون کی طرح پہلے الارم بجا کر ہوشیار اور متوجہ کیا جائے ) اور یہ طرز وحی کی (بوجہ خدائی کلام کی براہ راست حامل ہونے کے ) مجھ پر سخت ترین ہوتی ہے۔پھر بعد اس کے کہ میں اس کا کلام خوب محفوظ کر چکا ہوتا ہوں یہ آواز مجھ سے جدا ہو جاتی ہے اور کبھی کوئی فرشتہ میرے پاس انسان کی صورت اختیار کر کے آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے سو میں اس کی بات کو بھی محفوظ کر لیتا ہوں۔“ اس حدیث میں مِن وَرَائِي حِجَاب والی صورت نہیں بیان کی گئی۔جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صورت جو رویا وغیرہ سے تعلق رکھتی ہے ایک نسبتاً عام صورت ہے اور اکثر لوگ علی قدر مراتب اس کی حقیقت سے واقف ہوتے ہیں بمقابلہ باقی دوصورتوں کے جن کا حلقہ صرف رسولوں اور خاص خاص لوگوں تک محدود ہوتا ہے۔مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ کلام الہی کی بڑی اقسام تین ہیں مگر یہ کہ یہ تینوں قسمیں پھر : بخاری کتاب بدء الوحی