سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 273
۲۷۳ آگے بہت سی ماتحت اقسام میں منقسم ہیں جن کا موٹا نقشہ حسب ذیل صورت میں سمجھا جاسکتا ہے۔اول: کلام بصورت وحی یعنی براہ راست لفظی کلام۔جس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔(الف) کلام الہی کا براہ راست انسانی کانوں تک پہنچنا جوکئی طریق پر ہوسکتا ہے۔(ب) خدائی تصرف کے ماتحت خود انسان کی زبان پر کوئی کلام جاری ہونا۔یہ ہر دو صورتیں یقہ اور نوم ہر دو حالتوں میں ممکن ہیں۔دوم کلام بواسطه ارسال رسل یعنی خدا کی طرف سے کوئی فرشتہ وغیرہ انسان کے سامنے نمودار ہوکر اس کے ساتھ خدائی منشاء کے ماتحت کلام کرے۔یہ بھی کئی صورتوں میں ہو سکتا ہے اور یقظہ اور نوم ہر دو حالتوں میں ممکن ہے۔سوم کلام پس پردہ یعنی نہ تو خدا کا براہ راست کلام ہو اور نہ ہی کسی فرشتہ کا براہ راست واسطه اختیار کیا جائے بلکہ اللہ تعالی کسی پردے کے پیچھے رہ کر کسی رنگ میں اپنے منشاء کا اظہار فرماوے۔اس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں۔مثلاً (الف) کشف یعنی عین بیداری یا نیم بیداری میں خدائی تصرف کے ماتحت کوئی نقشہ دکھایا جانا۔خواہ وہ نقشہ اصل حالت کا مظہر ہو یا قابل تعبیر ہو۔یہ حالت یقظہ کی صورت میں ہوتی ہے۔اور حواس ظاہری کے تعطل اور عدم تعطل ہر دو حالتوں میں ممکن ہے یعنی کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ ظاہری حواس بھی کام کر رہے ہوتے ہیں اور اسی حالت میں باطنی حواس میں ایک بیداری پیدا ہو کر کوئی نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے اور بعض اوقات ایک آن واحد کے لیے ظاہری حواس معطل ہو کر حواس باطنی کو جگہ دے دیتے ہیں۔(ب) رؤیا یا خواب جس کی کیفیت سے اکثر لوگ واقف ہیں جو نیند کی حالت میں دکھائی جاتی ہے اور بالعموم تعبیر طلب ہوتی ہے۔(ج) کسی تحریر کا آنکھوں کے سامنے پھر جانا جو یقظہ اور نوم ہر دو حالتوں میں ممکن ہے۔مندرجہ بالا صورتوں کے علاوہ ایک وحی خفی بھی ہوتی ہے یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی بات انسان کے دل میں ڈالا جا نا مگر اس کا پہچاننا خاص مشق چاہتا ہے۔یہ صرف ایک موٹا اور سرسری نقشہ ہے ورنہ در حقیقت کلام الہی کی صورتیں بہت ہیں اور بسا اوقات ایک سے زیادہ قسمیں ایک ہی وقت میں جمع بھی ہو جاتی ہیں یا ا : اس بارے میں متقدمین کے خیالات معلوم کرنے ہوں تو زرقانی جلد ا باب مراتب الوحی دیکھئے۔