سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 271 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 271

۲۷۱ ایک لحاظ سے درست ہے کیونکہ ابتدائے وحی کے بعد آپ نے تین سال تک اپنے مشن کو مخفی رکھا تھا۔پس اگر ان تین سالوں کو نکال دیں تو باقی دس سال ہی رہ جاتے ہیں۔بہر حال یہ مسلم ہے کہ ہجرت کے وقت آپ کی عمر ترپن سال کی تھی۔ظہور اسلام سے پہلے قریش میں سنہ تاریخ عموماً عام الفیل کے حساب سے شمار ہوتا تھا؛ چنانچہ مؤرخین بھی بعثت نبوی سے پہلے کے واقعات کی تاریخ بتانے کے لیے عموماً عام الفیل کا حوالہ دیتے ہیں لیکن بعثت سے بعد کے واقعات کا سنہ بعثت نبوی سے شمار کیا جاتا ہے مگر یہ سنہ بھی صرف تیرہ سال یعنی ہجرت تک چلتا ہے۔اس کے بعد سے مستقل طور پر سنہ ہجری شروع ہوتا ہے۔جس کی تجویز اور تعیین ابتد ا حضرت عمرؓ کے عہد میں ہوئی تھی لے یہ بیان کیا جاچکا ہے کہ بعثت نبوی عام الفیل کے چالیسویں سال ماہ رمضان میں ہوئی تھی اور چونکہ رمضان عربی مہینوں میں نواں مہینہ ہے اس لیے بعثت نبوی کا پہلا سال صرف چند ایام اور تین ماہ یعنی بقیہ رمضان اور شوال۔ذیقعد اور ذی الحجہ کا شمار ہوتا ہے اور چونکہ ہجرت نبوی ۱۴ نبوی ابتداء ماہ ربیع الاول میں ہوئی تھی۔اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بعد از بعثت کی قیام در اصل صرف بارہ سال پانچ ماہ اور چند ایام کا بنتا ہے۔ہاں اگر رویا صالحہ کا زمانہ یعنی ابتدائی چند ماہ بھی زمانہ نبوت میں شمار کر لیے جاویں تو یہ کل عرصہ قریباً تیرہ سال کا ہو جاتا ہے۔نزول وحی کی کیفیت کلام الہی کے نزول کی کیفیت اور اس کے نزول کے وقت مُنزَل عَلَيْهِ کے قلب کی حالت کو حقیقی طور پر سمجھنا تو صرف اسی شخص کا کام ہے جو اس کو چہ سے آشنا ہو۔تاہم جو اجمالی نقشہ قرآن شریف اور حدیث میں بیان ہوا ہے۔وہ درج ذیل کیا جاتا ہے: قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَا كَانَ لِبَشَرِ أَنْ يُعَلِّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْ مِنْ وَرَائِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِاِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلَى حَكِيمُ : یعنی ” نہیں کلام کرتا اللہ کسی بندے سے مگر وحی کے طریق پر یا کسی پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیجتا ہے جو القا کرتا ہے بندہ پر اللہ کے اذن سے۔بے شک اللہ تعالیٰ بہت بلند اور حکمت والا ہے۔“ : طبری : طبری ۳ : سورۃ شوری: ۵۲