سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 225 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 225

۲۲۵ شیطان تھا جو آپ کو راستہ سے ہٹا کر اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا تھا اور وہ جو آپ کو آخر میں ایک جماعت ملی تھی اور انہوں نے آپ کو سلام کہا تھا وہ خدا کے رسول حضرت ابراہیم اور موسیٰ اور عیسی علیہم السلام تھے۔اس کے بعد آپ مکہ کی طرف واپس لوٹ آئے ہے یہ وہ واقعات ہیں جو معراج اور اسراء میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش آئے اور جو شخص ان واقعات کوغور سے مطالعہ کرے گا وہ ان کی غرض و غایت کے متعلق کبھی بھی شک و شبہ میں نہیں رہ سکتا۔خصوصاً جب کہ اس بات کو مد نظر رکھا جائے کہ یہ واقعات ظاہر کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے بلکہ وہ نہایت اعلیٰ قسم کے کشوف تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدائی تصرف کے ماتحت دکھائے گئے۔یہ بات تو ادنیٰ مطالعہ سے بھی ظاہر ہے کہ معراج اور اسراء دونوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ارفع شان اور آپ کی اُمت کے مرتبہ کی بلندی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ علاوہ اور اشارات کے دونوں کشوف میں آپ کا گذشتہ انبیاء سے ملنا اور اُن سے آگے نکل جانا یا نماز میں ان کا امام بننا اسی حقیقت کا حامل ہے۔ان کشوف میں بعض انبیاء کا خاص طور پر آپ کی ملاقات کے لیے منتخب کیا جانا بھی اپنے اندر ایک معنی رکھتا ہے۔دراصل یہ انبیاء وہی ہیں جن کی اُمتوں سے یا تو آپ کی اُمت کو خاص طور پر واسطہ پڑنے والا تھا اور یا یہ انبیاء بعض خاص صفات کے حامل تھے اور ان کشوف میں اس حقیقت کا اظہار مقصود تھا کہ آپ کا وجودان انبیاء کی مخصوص صفات میں بھی ان سے بالا وارفع ہے۔اُمتوں کے تعلق کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ اور ایک جہت سے حضرت ابراہیم اور حضرت آدم علیہم السلام خاص امتیاز رکھتے ہیں اور اسی لیے اسراء اور معراج دونوں میں ان انبیاء کو خاص طور پر نمایاں کر کے دکھایا گیا ہے۔حضرت عیسی" تو مسیحی اقوام کے مرکزی نقطہ تھے جو اُس زمانہ میں بھی ایک نمایاں حیثیت حاصل کر چکی تھیں۔حضرت موسیٰ نہ صرف یہودیت کے بانی مبانی تھے جن کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عنقریب واسطہ پڑنے والا تھا بلکہ وہ ایک ایسی شریعت کے لانے والے تھے جو اپنی تدوین اور تعیین اور الہامی نوعیت کی وجہ سے اسلامی شریعت کے ساتھ بہت قریب کی مشابہت رکھتی تھی۔حضرت ابرا ہیم وسیع شامی اقوام کے جد امجد ا ہونے کے علاوہ مسیحیت اور یہودیت اور حنیفیت اور اسلام کے لیے ایک مشترک واجب الاحترام ہستی تھے اور بالآ خر حضرت آدم کا وجود تھا جو گویا تمام بنی نوع آدم کا اجتماعی نقطہ تھا۔اس جہت سے معراج اور اسراء میں ان انبیاء کا مخصوص طور پر چنا جانا صاف طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرنے کی غرض سے تھا کہ : ترمذی باب التفسیر و ابن کثیر تفسیر آیت اسراء بحوالہ ابن جریر از روایت انس بن مالک۔ابن ہشام ذکر اسراء ملخصاً