سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 211
۲۱۱ اور تفرقہ ڈال رکھا ہے۔اس کی باتیں باپ کو بیٹے سے ، بھائی کو بھائی سے اور خاوند کو بیوی سے جدا کر دیتی ہیں۔ہمیں ڈر ہے کہ تم اس کی ساحرانہ باتیں سنو اور متاثر ہو جاؤ۔لہذا ہم تمہیں بر وقت ہوشیار کرتے ہیں کہ دیکھنا کہیں اس کی باتوں میں نہ آجانا۔طفیل کہتے ہیں کہ مجھے قریش نے اس معاملہ میں اس طرح بار بار تاکید کی کہ میں ان کی بات کو سچا سمجھ کر بہت خائف ہو گیا حتی کہ میں نے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے کان میں اچانک اس ساحر کی کوئی آواز پڑ جاوے اور میں کسی فتنہ میں مبتلا ہو جاؤں۔میں ایک دن اسی حالت میں صبح کے وقت مسجد حرام میں گیا تو وہاں میں نے ایک کو نہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں۔مجھے یہ نظارہ بھلا معلوم ہوا اور میں آہستہ آہستہ آپ کے قریب چلا گیا۔خدا کی قدرت باوجود یکہ میرے کان بند تھے پھر بھی کچھ کچھ آواز مجھے سنائی دینے لگی اور میں نے دل میں کہا۔”میری ماں مجھے کھوئے یا میں ایک سمجھدار شخص ہوں اور نیکی بدی کی تمیز رکھتا ہوں۔پس کیا حرج ہے کہ میں اس شخص کی بات سن لوں۔اگر وہ اچھی ہوئی تو مان لوں گا اور اگر بُری ہوئی تو انکار کر دوں گا۔“ یہ خیال دل میں آنا تھا کہ میں نے کانوں سے روٹی نکال پھینکی اور قرآن کی تلاوت سنتا رہا اور جب رسول اللہ نماز ختم کر چکے اور گھر کی طرف لوٹے تو میں ساتھ ہولیا اور آپ سے عرض کیا کہ مجھے آپ اپنی باتیں سنائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کلام الہی سنایا اور توحید کی تبلیغ فرمائی۔جس کا یہ اثر ہوا کہ میں وہیں مسلمان ہو گیا۔پھر میں نے آپ سے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! میں اپنے قبیلے میں ممتاز حیثیت رکھتا ہوں اور لوگ میری بات مانتے ہیں۔پس آپ دعا کریں کہ میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ ان کو اسلام کی ہدایت دے۔آپ نے اجازت دی اور دعا فرمائی۔جب طفیل اپنے قبیلہ میں پہنچے تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد اور بیوی کو تبلیغ کی اور وہ مسلمان ہو گئے۔پھر قبیلہ والوں کی طرف رُخ کیا اور ان کو اسلام کی طرف بلایا، مگر اُنہوں نے انکار کیا اور نہ مانا بلکہ نفرت و مخالفت میں بڑھتے گئے۔یہ حالت دیکھ کر طفیل پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔یا رسول اللہ ! میری قوم نے تکذیب کی ہے اور مخالفت میں بڑھ گئی ہے۔پس اب آپ اُن کے واسطے بد دعا کریں۔آپ نے ہاتھ اُٹھائے مگر بجائے بد دعا کرنے کے یہ الفاظ فرمائے کہ اللَّهُمَّ اهْدِدَرْسًا “ یعنی ”اے میرے اللہ تو قبیلہ دوس کو ہدایت دے۔اور پھر آپ نے مجھ سے لے : یعنی میں مروں۔یہ ایک عربی کا محاورہ ہے جو کسی غلطی وغیرہ کے ارتکاب پر استعمال کیا جاتا ہے اور مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ ایک ایسا کام ہے کہ اس سے مرنا بہتر ہے۔منہ