سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 210
۲۱۰ اسلامی تاریخ یا حدیث یا قرآن کریم میں نہیں ملتا مگر یہ کہ جس طرح دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بیشمار دوسری مخلوق ہے جس میں بڑی چھوٹی کثیف لطیف مرکی و غیر مرئی ہر قسم کی چیزیں شامل ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق جن بھی ہے جو جیسا کہ اس کا نام ظاہر کرتا ہے، انسان کی نظروں سے مخفی ہے اور ایک جدا گا نہ عالم سے تعلق رکھتی ہے اور عام حالات میں انسان کے ساتھ اس کا کوئی سروکار نہیں۔یہ وہ عقیدہ ہے جس پر کوئی عقلمند اعتراض نہیں کرسکتا۔باقی رہا یہ سوال کہ ان معنوں کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جنات کے وفد آنے سے کیا مراد ہے سو اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ نظارہ ایک کشفی نظارہ سمجھا جائے گا اور اس سے مراد یہ ہوگی کہ اس انتہائی درجہ پریشانی اور بے بسی کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ نظارہ دکھا کر اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ اے رسول گودیسے ہر وقت ہی ہماری نصرت تیرے ساتھ ہے لیکن جس طرح گرمی کی شدت خاص طور پر بادل کو پہنچتی ہے اسی طرح اب وقت آگیا ہے کہ ہماری مخفی طاقتیں تیری رسالت کی تائید میں خصوصیت کے ساتھ مصروف کار ہو جائیں ؛ چنانچہ اس کے بعد جلد ہی حالات نے پلٹا کھایا اور ہجرت میثرب کا پردہ اُٹھتے ہی خدا کی مخفی تجلیات اسلام کے جھنڈے کو اٹھا کر کہیں کا کہیں لے گئیں اور روایات میں جو سات کا لفظ آتا ہے سو اس سے مخفی طاقتوں کا کامل ظہور مراد ہے کیونکہ عربی میں سات کا عدد کمال کے اظہار کے لیے آتا ہے اور شام کے شہر نصیبین میں یہ اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی فتوحات کی رو عرب کے بعد شام کے ملک سے شروع ہوگی۔واللہ اعلم قبیلہ دوس میں اسلام ابتدائی ایام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی کوششوں کے علاوہ اشاعت اسلام کا بڑا ذریعہ یہی تھا کہ کسی قبیلہ کا کوئی شخص اسلام لے آیا تو پھر اس کے ذریعہ سے اس قبیلہ میں آہستہ آہستہ اسلام پھیلنے لگا۔یا مسلمان مکہ سے نکل کر کہیں گئے تو اپنے ساتھ اس نور کی شعاعوں کو بھی لیتے گئے۔مثلاً قبیلہ بنو غفار میں ابوذر غفاری کے واسطے سے اور حبشہ میں مہاجرین حبشہ کے ذریعہ سے اور یمن کے قبیلہ اشعر میں ابو موسیٰ اشعری کے مسلمان ہونے سے اسلام داخل ہو چکا تھا۔اب خدا کے فضل سے ایک اور قبیلہ میں بھی اس کا اثر پہنچ گیا اور وہ یوں ہوا کہ طفیل بن عمر و قبیلہ دوس کا ایک معزز رئیس تھا اور شاعر بھی تھا۔وہ کسی تقریب پر مکہ آنکلا۔قریش نے اُسے دیکھا تو فکر پیدا ہوا کہ ایسا نہ ہو یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور مسلمان ہو جاوے۔اس لیے وہ اس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ " تم ہمارے شہر میں ایسی حالت میں آئے ہو کہ یہاں ایک شخص نے ہم میں سخت فتنہ