سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 212 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 212

۲۱۲ فرمایا کہ اپنی قوم کی طرف واپس چلے جاؤ اور نرمی اور محبت سے تبلیغ میں لگے رہو۔طفیل کہتے ہیں کہ میں پھر اپنے قبیلہ کی طرف واپس آیا اور ان میں تبلیغ کرتا رہا حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت کی اور جنگ بدر اور اُحد اور احزاب ہو چکیں تب جا کر میری قوم نے اسلام قبول کیا۔اس کے بعد میں اُن میں سے ستر خاندانوں کے ساتھ مدینہ میں ہجرت کر آیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنگ خیبر میں مصروف تھے یا حضرت ابو ہریرہ جو احادیث کے ایک مشہور راوی ہیں قبیلہ دوس سے تھے اور انہی لوگوں میں مدینہ آئے تھے۔طفیل بن عمرو روی کے متعلق یہ بھی روایت آتی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو قریش مکہ نے بہت زیادہ تنگ کرنا شروع کیا تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ میرے پاس چل کر قیام فرما دیں۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: یہ معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔وہ جب ہجرت کا حکم دے گا، تبھی میرا نکلنا ہوگا اور پھر جہاں کا ارشاد ہوگا وہیں جانا ہوگا۔“ معراج اور اسراء معراج اور اسراء کے مسئلہ کو اسلامی لٹریچر میں جو پوزیشن حاصل ہے اور جو لمبی لمبی بحثیں اس بارے میں کی گئی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔یہ بخشیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تھوڑا عرصہ بعد سے لے کر آج تک کے لٹریچر میں پائی جاتی ہیں مگر ہمیں ایک مؤرخ ہونے کی حیثیت میں ان بحثوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ہمارے لیے صرف اس قدر کافی ہے کہ معراج اور اسراء کے متعلق تاریخی لحاظ سے جو بات ثابت ہے اسے مختصر طور پر اپنے ناظرین کے سامنے رکھ دیں مگر پیشتر اس کے کہ اصل واقعات بیان کیے جائیں بعض ان اصولی غلطیوں کا ذکر ضروری ہے جو اس بحث میں عام طور پر واقع ہوئی ہیں جن میں بدقسمتی سے خود مسلمانوں کا ایک طبقہ بھی مبتلا ہو گیا ہے۔پہلی غلطی یہ ہوئی ہے کہ مسلمانوں کے ایک حصہ نے اور ان کی پیروی میں بیشتر غیر مسلم مؤرخین نے یہ سمجھ لیا ہے کہ معراج اور اسراء ایک ہی واقعہ کے دو مختلف نام ہیں یا کم از کم یہ کہ وہ ایک ہی واقعہ کے دو مختلف حصوں کے نام ہیں حالانکہ قرآن شریف اور صحیح احادیث اور مستند تاریخی روایات کے مطالعہ سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ دراصل معراج اور اسراء دو مختلف چیزیں ہیں جو خواہ ایک دوسرے کے ل : ابن ہشام واسد الغابه