سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 196 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 196

۱۹۶ ایک دفعہ آپ ایک راستہ پر چلے جاتے تھے کہ ایک شریر نے برسر عام آپ کے سر پر خاک ڈال دی۔ایسی حالت میں آپ گھر تشریف لائے۔آپ کی ایک صاحبزادی نے یہ دیکھا تو جلدی سے پانی لے کر آئیں اور آپ کا سر دھویا اور زار زار رونے لگیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تسلی دی اور فرمایا۔”بیٹی رو نہیں۔اللہ تیرے باپ کی خود حفاظت کرے گا اور یہ سب تکلیفیں دور ہو جائیں گی یا پھر ایک دفعہ آپ صحن کعبہ میں خدا تعالیٰ کے سامنے سر بسجود تھے اور چند رؤساء قریش بھی وہاں مجلس لگائے بیٹھے تھے کہ ابو جہل نے کہا۔اس وقت کوئی شخص ہمت کرے تو کسی اونٹنی کا بچہ دان لا کر محمد کے اوپر ڈال دے۔“ چنا نچہ عقبہ بن ابی معیط اُٹھا اور ایک ذبح شدہ اونٹنی کا بچہ دان لا کر جو خون اور گندی آلائش سے بھرا ہوا تھا آپ کی پشت پر ڈال دیا اور پھر سب قہقہہ لگا کر ہننے لگے۔فاطمتہ الزہرا کو اس کا علم ہوا تو وہ دوڑی آئیں اور اپنے باپ کے کندھوں سے یہ بوجھ اتارا۔تب جا کر آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا۔روایت آتی ہے کہ ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان رؤساء قریش کے نام لے لے کر جو اس طرح اسلام کو ذلیل کرنے اور مٹانے کے درپے تھے بددعا کی اور خدا سے فیصلہ چاہا۔راوی کہتا ہے کہ پھر میں نے دیکھا کہ یہ سب لوگ بدر کے دن مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل ہو کر داوی بدر کی ہوا کو متعفن کر رہے تھے۔کے حضرت عائشہ اور سودہ کی شادی نکاح کرنا اسلام میں ضروری قرار دیا گیا ہے اور سوائے معذوری کی صورت کے تجرد سے روکا گیا ہے؛ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي فَمَنْ لَمْ يَعْمَلُ بِسُنَّتِى فَلَيْسَ مِنِّى۔یعنی شادی کرنا میری سنت میں داخل ہے اور جو میری سنت پر عمل نہیں کرتا وہ مجھ سے نہیں ہے۔“ اور خصوصاً ایک نبی اور شارع نبی کے واسطے تو شادی کرنا از بس ضروری ہے نہ صرف اس لیے کہ تا اس ذریعہ سے وہ حسن معاشرت کا نمونہ اپنی اُمت کے واسطے قائم کر سکے بلکہ اس لیے بھی کہ تبلیغ احکام کے کام میں اس کی بیوی اس کی مددگار ہو کیونکہ عورتوں کے متعلق جو مسائل ہوتے ہیں اُن کی تبلیغ و تعلیم جس خوبی کے ساتھ ایک عورت کر سکتی ہے مرد نہیں کر سکتا بلکہ در حقیقت انبیاء کے واسطے تو مناسب یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی مانع نہ ہو تو وہ حتی الوسع ایک سے زیادہ بیویاں کریں تا ان کے لیے تبلیغ و تعلیم کا کام اور بھی زیادہ : طبری بخاری حالات غزوہ بدر ے : ابن ماجه