سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 195
۱۹۵ تکلیف کی گھڑیوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا تھا اور اُن کو آپ سے اور آپ کو ان سے بہت محبت تھی۔اس لیے طبعاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کی وفات کا سخت صدمہ ہوا۔وفات کے بعد جب کبھی ان کا ذکر آتا تو آپ کی آنکھیں ڈبڈبا آتیں اور آپ اکثر اُن کی تعریف فرمایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ خدیجہ اپنے زمانہ کی بہترین عورتوں میں سے تھی اور حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ آپ حضرت خدیجہ کا اس کثرت سے ذکر خیر کیا کرتے تھے کہ مجھے اُن پر غیرت آنے لگتی تھی اور میں کہتی تھی کہ آپ تو اس طرح خدیجہ کا ذکر فرماتے ہیں کہ گویا دنیا میں بس وہی ایک عورت پیدا ہوئی ہے۔آپ فرماتے تھے عائشہ ! اس میں بڑی بڑی خوبیاں تھیں اور خدا نے مجھے اولاد بھی اسی سے دی۔غرض آر ہمیشہ نہایت محبت کے ساتھ حضرت خدیجہ کا ذکر فرماتے تھے۔اگر گھر میں کبھی کوئی جانور وغیرہ ذبح ہوتا تو آپ حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کو ضرور حصہ بھیجتے۔ایک دفعہ آپ حضرت عائشہ کے گھر میں تشریف رکھتے تھے کہ حضرت خدیجہ کی بہن ہالہ بنت خویلد آپ سے ملنے کے لیے آئیں اور دروازہ پر آ کر اجازت چاہی۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ آپ بیتاب ہو کر اٹھے کہ خدیجہ کی سی آواز ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بہن ہالہ آئی ہے۔جنگ بدر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے داما دابو العاص جو ابھی تک اسلام نہ لائے تھے قید ہو کر آئے تو ان کی زوجہ یعنی آپ کی صاحبزادی زینب نے جو ابھی تک مکہ ہی میں تھیں۔ان کے فدیہ کے طور پر اپنے گلے کا ہار اتار کر بھیجا۔یہ وہ ہار تھا جو حضرت خدیجہ نے زینب کو جہیز میں دیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس ہار کو دیکھا تو مرحومہ خدیجہ یاد آ گئی اور آپ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔صحابہ سے فرمایا: اگر چاہو تو خدیجہ کی یہ یاد گار اس کی بیٹی کو واپس کر دو۔‘انہیں اشارہ کی دیر تھی فوراً ہار واپس کر دیا۔۔وفات کے وقت حضرت خدیجہ کی عمر ۶۵ سال کی تھی۔مکہ کے مقام حَجُون میں دفن کی گئیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کی قبر میں اُترے مگر نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی کیونکہ ابھی تک جنازہ کی نماز مقرر نہ ہوئی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکالیف میں اضافہ حضرت خدیجہ اور ابوطالب کی وفات کے بعد قریش مکہ آپ کی ذات کے متعلق بہت دلیر ہو گئے اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت تکالیف پہنچانی شروع کیں۔ل : بخاری باب تز و یج النبی صلعم خدیجه : زرقانی : ابن ہشام وطبری : ابن ہشام وابن سعد