سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 178
KA جب عمر غسل سے فارغ ہوئے تو فاطمہ نے قرآن کے اوراق نکال کر ان کے سامنے رکھ دیئے۔اُنہوں نے اُٹھا کر دیکھا تو سورۃ طہ کی ابتدائی آیات تھیں۔حضرت عمر نے ایک مرعوب دل کے ساتھ انہیں پڑھنا شروع کیا اور ایک ایک لفظ اس سعید فطرت کے اندر گھر کئے جاتا تھا۔پڑھتے پڑھتے حضرت عمرؓ اس آیت پر پہنچے کہ : اِنَّنِي أَنَا اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى إِنَّ السَّاعَةَ أُتِيَةً أَكَادُ أُخْفِيْهَا لِتُجْزَى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى LO یعنی میں ہی اس دنیا کا واحد خالق و مالک ہوں میرے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں۔پس تمہیں چاہئے کہ صرف میری ہی عبادت کرو اور میری ہی یاد کے لئے اپنی دعاؤں کو وقف کر دو۔دیکھو موعود گھڑی جلد آنے والی ہے مگر ہم اس کے وقت کو مخفی رکھے ہوئے ہیں تا کہ ہر شخص اپنے کئے کا سچا سچابدلہ پاسکے۔“ جب حضرت عمرؓ نے یہ آیت پڑھی تو گویا ان کی آنکھ کھل گئی اور سوئی ہوئی فطرت چونک کر بیدار ہوگئی بے اختیار ہوکر بولے۔” یہ کیسا عجیب اور پاک کلام ہے! خباب نے یہ الفاظ سنے تو فوراً باہر نکل آئے اور خدا کا شکر ادا کیا اور کہا۔” یہ رسول اللہ کی دعا کا نتیجہ ہے کیونکہ خدا کی قسم ابھی کل ہی میں نے آپ کو یہ دعا کرتے سنا تھا کہ یا اللہ تو عمر ابن الخطاب یا عمرو بن ہشام ( یعنی ابوجہل ) میں سے کوئی ایک ضرور اسلام کو عطا کر دے۔“ حضرت عمرؓ کو اب ایک ایک پل گراں تھا۔خباب سے کہا۔” مجھے ابھی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ بتاؤ۔مگر کچھ ایسے آپے سے باہر ہورہے تھے که تلوار اُسی طرح نگی کھینچ رکھی تھی۔اس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دار ارقم میں مقیم تھے؛ چنانچہ خباب نے انہیں وہاں کا پتہ بتا دیا۔عمر گئے اور دروازہ پر پہنچ کر زور سے دستک دی۔صحابہ نے دروازے کی دراڑ میں سے عمر کونگی تلوار تھامے ہوئے دیکھ کر دروازہ کھولنے میں تامل کیا۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔دروازہ کھول دو۔“ اور حضرت حمزہ نے بھی کہا۔دروازہ کھول دو۔اگر نیک ارادہ سے آیا ہے تو بہتر : ورنہ اگر نیت بد ہے تو واللہ اسی کی تلوار سے اُس کا سراُڑا دوں گا۔دروازہ کھولا گیا۔عمرنگی تلوار ہاتھ میں لئے اندر داخل ہوئے۔اُن کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور عمر کا دامن پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا اور کہا: "عمر کس ارادہ سے آئے ہو؟ واللہ میں دیکھتا ہوں کہ تم خدا کے عذاب کے لئے نہیں ا : سورة طه : ۱۶،۱۵ "