سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 177 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 177

122 ہو گئے۔ان کے اسلام لانے کا قصہ نہایت دلچسپ ہے۔حضرت عمر کی طبیعت میں تختی کا مادہ تو زیادہ تھا ہی مگر اسلام کی عداوت نے اسے اور بھی زیادہ کر دیا تھا چنانچہ اسلام سے قبل عمر غریب اور کمزور مسلمانوں کو ان کے اسلام کی وجہ سے بہت سخت تکلیف دیا کرتے تھے لیکن جب وہ انہیں تکلیف دیتے دیتے تھک گئے اور اُن کے واپس آنے کی کوئی صورت نہ دیکھی تو خیال آیا کہ کیوں نہ اس فتنہ کے بانی کا ہی کام تمام کر دیا جاوے۔یہ خیال آنا تھا کہ تلوار لے کر گھر سے نکلے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش شروع کی۔راستہ میں ایک شخص نے انہیں تنگی تلوار ہاتھ میں لیے جاتے دیکھا تو پوچھا۔”عمر! کہاں جاتے ہو؟“ عمر نے جواب دیا۔”محمد کا کام تمام کرنے جاتا ہوں۔اُس نے کہا کیا تم محمد کو قتل کر کے بنو عبد مناف سے محفوظ رہ سکو گے؟ ذرا پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو۔تمہاری بہن اور بہنوئی مسلمان ہو چکے ہیں۔حضرت عمر جھٹ پلٹے اور اپنی بہن فاطمہ کے گھر کا راستہ لیا۔جب گھر کے قریب پہنچے تو اندر سے قرآن شریف کی تلاوت کی آواز آئی۔جو خباب بن الارت خوش الحانی کے ساتھ پڑھ کر سنا رہے تھے۔عمر نے یہ آواز سنی تو غصہ اور بھی بڑھ گیا۔جلدی سے گھر میں داخل ہوئے لیکن ان کی آہٹ سنتے ہی خباب تو جھٹ کہیں چھپ گئے اور فاطمہ نے قرآن شریف کے اوراق بھی اِدھر اُدھر چھپا دیئے یا حضرت عمر اندر آئے تو للکار کر کہا ! میں نے سنا ہے تم اپنے دین سے پھر گئے ہو۔یہ کہہ کر اپنے بہنوئی سعید بن زید سے لپٹ گئے۔فاطمہ اپنے خاوند کو بچانے کے لیے آگے بڑھیں تو وہ بھی زخمی ہوئیں۔مگر فاطمہ نے دلیری کے ساتھ کہا۔”ہاں عمر ! ہم مسلمان ہو چکے ہیں اور تم سے جو ہو سکتا ہے کر لو ہم اسلام کو نہیں چھوڑ سکتے۔حضرت عمر نہایت سخت آدمی تھے لیکن اس سختی کے پردہ کے نیچے محبت اور نرمی کی بھی ایک جھلک تھی جو بعض اوقات اپنا رنگ دکھاتی تھی۔بہن کا یہ دلیرانہ کلام سنا تو آنکھ اوپر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا وہ خون میں تر بہ تر تھی۔اس نظارہ کا عمر کے قلب پر ایک خاص اثر ہوا۔کچھ دیر خاموش رہ کر بہن سے کہنے لگے ” مجھے وہ کلام تو دکھاؤ جو تم پڑھ رہے تھے ؟‘ فاطمہ نے کہا۔میں نہیں دکھاؤں گی کیونکہ تم ان اوراق کو ضائع کر دو گے۔‘ عمر نے جواب دیا۔نہیں نہیں تم مجھے دکھا دو۔میں ضرور واپس کر دوں گا۔فاطمہ نے کہا۔”مگر تم نجس ہوا اور قرآن کو پاکیزگی کی حالت میں ہاتھ لگانا چاہئے۔پس تم پہلے غسل کر لو اور پھر دیکھنا۔غالباً ان کا منشا یہ بھی ہوگا کہ غسل کرنے سے عمر کا غصہ بالکل فرو ہو جائے گا اور وہ ٹھنڈے دل سے غور کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔لے : یہ واقعہ یا درکھنے کے قابل ہے کیونکہ اس سے پتہ لگتا ہے کہ ابتدائے زمانہ سے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن شریف کو ساتھ ساتھ لکھواتے جاتے تھے اور یہ نسخے متعد دصحابہ کے پاس محفوظ رہتے تھے۔منہ