سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 179 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 179

129 بنائے گئے۔عمر نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! میں مسلمان ہونے آیا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ سنے تو خوشی کے جوش میں اللہ اکبر کہا اور ساتھ ہی صحابہ نے اس زور سے اللہ اکبر کا نعرہ مارا کہ مکہ کی پہاڑیاں گونج اُٹھیں۔حضرت عمر کی عمر اس وقت ۳۳ سال کی تھی اور آپ اپنے قبیلہ بنو عدی کے رئیس تھے۔قریش میں سفارت کا عہدہ بھی انہی کے سپر د تھا اور ویسے بھی نہایت بارعب اور جری اور دلیر تھے۔ان کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو بہت تقویت پہنچی اور اُنہوں نے دارارقم سے نکل کر بر ملا مسجد حرام میں نماز ادا کی۔حضرت عمرؓ آخری صحابی تھے جو دار ارقم میں ایمان لائے اور یہ بعثت نبوی کے چھٹے سال کے آخری ماہ کا واقعہ ہے۔اس وقت مکہ میں مسلمان مردوں کی تعداد چالیس تھی ہے جب حضرت عمرؓ کے اسلام کی خبر قریش میں پھیلی تو وہ سخت جوش میں آگئے اور اسی جوش کی حالت میں اُنہوں نے حضرت عمرؓ کے مکان کا محاصرہ کر لیا۔حضرت عمرؓ باہر نکلے تو ان کے اردگر دلوگوں کا ایک بڑا مجمع اکٹھا ہو گیا اور قریب تھا کہ بعض جو شیلے لوگ اُن پر حملہ آور ہو جائیں لیکن حضرت عمرؓ بھی نہایت دلیری کے ساتھ ان کے سامنے ڈٹے رہے۔آخر اسی حالت میں مکہ کا رئیس اعظم عاص بن وائل اوپر سے آ گیا اور اس ہجوم کو دیکھ کر اس نے اپنے سردارانہ انداز میں آگے بڑھ کر پوچھا۔” یہ کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے کہا۔"عمر صابی ہو گیا ہے۔اُس نے موقع شناسی سے کام لیتے ہوئے کہا۔” تو خیر پھر بھی اس ہنگامہ کی ضرورت نہیں۔میں عمر کو پناہ دیتا ہوں۔اس آواز کے سامنے عربی دستور کے مطابق لوگوں کو خاموش ہونا پڑا اور وہ آہستہ آہستہ منتشر ہو گئے۔اس کے بعد حضرت عمرؓ چند دن تک امن میں رہے کیونکہ عاص بن وائل کی پناہ کی وجہ سے کوئی ان سے تعرض نہیں کرتا تھا لیکن اس حالت کو حضرت عمرؓ کی غیرت نے زیادہ دیر تک برداشت نہ کیا ؛ چنانچہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا کہ انہوں نے عاص بن وائل سے جا کر کہہ دیا کہ میں تمہاری پناہ سے نکلتا ہوں۔حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد میں مکہ کی گلیوں میں بس پیٹتا پٹیتا ہی رہتا تھا۔مگر حضرت عمرؓ نے کبھی کسی کے سامنے آنکھ نیچی نہیں کی۔حضرت عمرؓ کے مسلمان ہونے کے قریب ہی ان کے صاحبزادے عبداللہ بن عمر بھی مسلمان ہوئے۔ل : ابن ہشام والروض الانف وزرقانی۔حضرت عمر کے اسلام کے متعلق بعض اور روایات بھی ہیں۔مگر ہم نے اس جگہ صرف اہل سیرۃ کی معروف روایت کو لے لیا ہے۔: زرقانی : زرقانی