سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 157
۱۵۷ پیٹھ ٹھونکنے میں میرے ساتھ بے وفائی کرنے پر آمادہ ہو۔پس اگر تمہارے تیور بدلے ہوئے ہیں تو میں کیا کہ سکتا ہوں۔تم نے جو کرنا ہو وہ کرو۔،، مسلمانوں کے متعلق قریش کا فیصلہ رؤساء قریش ابو طالب کی طرف سے مایوس ہو گئے تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے یہ تجویز کی کہ جس جس قبیلہ میں سے کوئی شخص مسلمان ہو چکا تھاوہ قبیلہ اپنے اپنے آدمی پر دباؤ ڈال کر اسے اسلام سے منحرف کرنے کی کوشش کرے؛ چنانچہ سب نے مل کر باہم مشورہ سے یہ فیصلہ کیا کہ نومسلموں پر ان کے اپنے اپنے قبیلہ کی طرف سے زور ڈالا جائے تاکہ کسی قسم کی بین القبائل پیچیدگی نہ پیدا ہو اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ جب خود مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیں گے تو آپ اکیلے کچھ نہیں کر سکیں گے اور یہ سارا کھیل بگڑ جائے گا۔اس فیصلہ میں یہ بھی قرار پایا کہ صرف زبانی دباؤ تک نہ رہا جائے بلکہ ہر رنگ میں تنگ کر کے اور تکلیف میں ڈال کر نو مسلموں کو واپس لانے کی کوشش کی جائے۔جب ابو طالب کو اس مشورہ سے اطلاع ہوئی تو انہوں نے بھی ایک جوابی تدبیر کے طور پر بنو ہاشم اور بنو مطلب کو ایک جگہ جمع کیا اور حالات بتا کر تحریک کی کہ اس عداوت کے طوفان میں ہمیں محمد کی حفاظت کرنی چاہئے چنانچہ ابولہب کے سوا جو اسلام کی عداوت میں اندھا ہورہا تھا باقی سب نے اس تجویز سے اتفاق کیا اور قومی غیرت میں آکر دوسروں کے مقابلہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اعانت کے لئے تیار ہو گئے۔۔ان حالات نے مکہ کی فضا میں ایک آتشی مادہ پیدا کر دیا تھا۔مگر چونکہ ابھی تک مسلمانوں کی ایذارسانی کا فیصلہ ہر قبیلہ کی حدود کے اندر محدود تھا، اس لئے کوئی بین القبائل پیچیدگی پیدا نہیں ہوئی۔ہاں مسلمانوں کے لئے انفرادی طور پر سخت مصائب و آلام کا دروازہ کھل گیا اور اس وقت سے لے کر ہجرت میثرب تک کی داستان ایک خون کے آنسور لانے والی داستان ہے۔مسلمانوں کی تکالیف کا نمونہ ان ایام میں جو جو تکالیف مسلمانوں کو پہنچیں اُن کو وہی جانتے تھے جن کو یہ مصائب جھیلنے پڑے۔مگر ہاں تاریخ نے جہاں تک ان واقعات کو محفوظ رکھا ہے اور وہ یقیناً اصل واقعات سے بہت کم ہیں۔ان کا نمونہ درج ذیل ہے: حضرت عثمان بنوامیہ میں سے تھے اور ایک نسبتاً پختہ عمر کے اور مرفہ الحال آدمی تھے، لیکن قریش کے مذکورہ بالا فیصلہ کے بعد اُن کے چا حکم بن ابی العاص نے ان کو رسیوں سے باندھ کر پیٹا اور ان بیچاروں P ل : ابن ہشام وطبری : ابن ہشام وطبری