سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 156
ܪܬܙ در پیش ہے تو میں بخوشی اپنے لیے اس موت کو قبول کرتا ہوں۔میری زندگی اس راہ میں وقف ہے اور میں موت کے ڈر سے اظہار حق سے رک نہیں سکتا اور اے چچا! اگر آپ کو اپنی کمزوری اور تکلیف کا خیال ہے تو آپ بے شک مجھے اپنی پناہ میں رکھنے سے دستبردار ہو جاویں۔مگر میں احکام الہی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رکوں گا اور خدا کی قسم اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے ہاتھ پر چاند بھی لا کر دے دیں تب بھی میں اپنے فرض سے باز نہیں رہوں گا اور میں اپنے کام میں لگا رہوں گاحتیٰ کہ خدا اسے پورا کرے یا میں اس کوشش میں ہلاک ہو جاؤں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر فرمارہے تھے اور آپ کے چہرہ پر سچائی اور نورانیت سے بھری ہوئی رقت نمایاں تھی اور جب آپ تقریر ختم کر چکے تو آپ یکلخت چل پڑے اور وہاں سے رُخصت ہونا چاہا مگر ابو طالب نے پیچھے سے آواز دی۔جب آپ کوٹے تو آپ نے دیکھا کہ ابو طالب کے آنسو جاری تھے۔اس وقت ابوطالب نے بڑی رقت کی آواز میں آپ سے مخاطب ہو کر کہا۔” بھیجے جا اور اپنے کام میں لگارہ جب تک میں زندہ ہوں اور جہاں تک میری طاقت ہے میں تیرا ساتھ دوں گا۔" 166 تیسر اوفد جب اس دفعہ بھی قریش ناکام رہے تو انہوں نے ایک اور چال چلی اور وہ یہ کہ قریش کے ایک اعلیٰ خاندان سے ایک ہونہار نو جوان عمارہ بن ولید کو ساتھ لے کر ابو طالب کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ ہم عمارہ بن ولید کو اپنے ساتھ لائے ہیں اور تم جانتے ہو کہ یہ قریش کے بہترین نوجوانوں میں سے ہے۔پس تم ایسا کرو کہ محمد کے عوض میں تم اس لڑکے کو لے لو اور اس سے جس طرح چاہو فائدہ اُٹھاؤ اور چاہو تو اسے اپنا بیٹا بنا لو۔ہم اس کے حقوق سے کلیۂ دستبردار ہوتے ہیں اور اس کے عوض تم محمد کو ہمارے سپرد کر دو جس نے ہمارے آبائی دین میں رخنہ پیدا کر کے ہماری قوم میں ایک فتنہ کھڑا کر رکھا ہے۔اس طرح جان کے بدلے جان کا قانون پورا ہو جائے گا اور تمہیں کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ابو طالب نے کہا۔یہ عجیب انصاف ہے کہ میں تمہارے بیٹے کو لے کر اپنا بیٹا بناؤں اور اسے کھلاؤں اور پلاؤں اور اپنا بیٹا تمہیں دے دوں کہ تم اسے قتل کر دو۔واللہ یہ کبھی نہیں ہوگا۔قریش کی طرف سے مطعم بن عدی نے کہا کہ ”پھر اے ابو طالب ! تمہاری قوم نے تو تم پر ہر رنگ میں حجت پوری کر دی ہے اور اب تک جھگڑے سے اپنے آپ کو بچایا ہے مگر تم ان کی کوئی بات بھی مانتے نظر نہیں آئے۔“ ابوطالب نے کہا۔”واللہ میرے ساتھ انصاف نہیں کیا جارہا اور مطعم میں دیکھتا ہوں کہ تم بھی اپنی قوم کی لے ازالہ اوہام جلد ۱ صفحه ۱۰ وابن ہشام وزرقانی