سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 158
۱۵۸ ย نے سامنے سے اُف تک نہیں کی یا زبیر بن العوام قبیلہ اسد سے تھے اور ایک جوانمرد آدمی تھے مگر ان کا ظالم چا اُن کو چٹائی میں لپیٹ کر اُن کے ناک میں آگ کا دھوآں دیا کرتا تھا کہ اسلام سے باز آ جاویں مگر وہ بڑی خوشی کے ساتھ اس تکلیف کو برداشت کرتے اور کہتے کہ میں صداقت کو پہچان کر پھر انکار نہیں کر سکتا ہے سعید بن زید جو حضرت عمرؓ کے بہنوئی تھے بنو عدی سے تھے اور اپنے حلقہ میں معزز تھے، لیکن جب عمر بن الخطاب کو ان کے اسلام کا علم ہوا تو وہ انہیں گرا کر ان کی چھاتی پر سوار ہو گئے اور اسی کش مکش میں اپنی بہن کو بھی زخمی کر دیا۔عبد اللہ بن مسعود جو قبیلہ ھذیل میں سے تھے انہیں قریش نے عین صحن کعبہ میں مار مار کر ہلکان کر دیا۔ابوذرغفاری کو قریش نے اتنا پیٹا کہ مارتے مارتے زمین پر بچھا دیا اور قریب تھا کہ جان سے مار ڈالتے ، مگر عباس بن عبدالمطلب نے یہ کہہ کر ان کو قریش سے چھڑایا کہ ” جانتے ہو کہ یہ شخص بنو غفار میں سے ہے جو تمہارے شامی تجارت کے راستہ پر آباد ہیں۔اگر اُن کو علم ہوا تو تمہارا راستہ روک دیں گے۔یہ سختیاں اُن لوگوں پر تھیں جو طاقتور قبیلوں سے تعلق رکھتے تھے ، مگر جو حال غلاموں اور دوسرے کمزور لوگوں کا تھا وہ پڑھ کر تو بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ذیل کی چند مثالیں قریش کے مظالم کا صرف ایک معمولی نمونہ ہیں۔بلال بن رباح اُمیہ بن خلف کے ایک حبشی غلام تھے۔اُمیہ ان کو دو پہر کے وقت جبکہ اوپر سے آگ برستی تھی اور مکہ کا پتھر یلا میدان بھٹی کی طرح پیا تھا ، باہر لے جاتا اور ننگا کر کے زمین پر لٹا دیتا اور بڑے بڑے گرم پتھر اُن کے سینے پر رکھ کر کہتا لات اور عُزّی کی پرستش کر اور محمد سے علیحدہ ہو جاورنہ اسی طرح عذاب دے کر مار دوں گا۔بلال زیادہ عربی نہ جانتے تھے۔بس صرف اتنا کہتے اَحد اَحد یعنی اللہ ایک ہی ہے۔اللہ ایک ہی ہے۔اور یہ جواب سن کر اُمیہ اور تیز ہو جاتا اور ان کے گلے میں رستہ ڈال کر انہیں شریر لڑکوں کے حوالے کر دیتا اور وہ ان کو مکہ کی پتھر یلے گلی کوچوں میں گھسیٹتے پھرتے جس سے اُن کا بدن خون سے تر بتر ہو جاتا۔مگر اُن کی زبان پر سوائے اَحد اَحد کے اور کوئی لفظ نہ آتا۔حضرت ابوبکر نے اُن پر یہ جور و ستم دیکھے تو ایک بڑی قیمت پر خرید کر انہیں آزاد کر دیا۔ابو فکیه صفوان بن امیہ کے غلام تھے۔ان کو بھی یہ لوگ اسی طرح گرم زمین پر لٹا دیتے اور سینے پر اتنے بھاری پتھر رکھتے کہ اُن کی زبان باہر نکل آتی۔طبقات ابن سعد حالات عثمان بن عفان ے : ابن ہشام ذکر اسلام عمر ے : زرقانی جلدا باب اول من اسلم : اسد الغابه ه : بخاری باب قصہ اسلام ابی ذر