سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 155 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 155

۱۵۵ عاص بن وائل ، عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، ابوسفیان وغیرہ جو سب رؤساء قریش میں سے تھے ابوطالب کے پاس آئے اور نرمی کے طریق پر کہا کہ آپ ہماری قوم میں معزز ہیں۔اس لیے ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ اپنے بھتیجے کو اس نئے دین کی اشاعت سے روک دیں اور یا پھر اس کی حمایت سے دستبردار ہو جاویں اور ہمیں اور اس کو چھوڑ دیں کہ ہم آپس میں فیصلہ کر لیں۔ابو طالب نے اُن کے ساتھ بہت نرمی کی باتیں کیں اور اُن کے غصہ کو کم کرنے کی کوشش کرتے رہے اور بالآخر انہیں دوسرا وفد ٹھنڈا کر کے واپس کر دیا ہے لیکن چونکہ اُن کی ناراضگی کا سبب موجود تھا بلکہ دن بدن ترقی کرتا جاتا تھا اور قرآن شریف میں بڑی سختی سے شرک کے رد میں آیات نازل ہو رہی تھیں۔اس لیے کوئی لمبا عرصہ نہ گذرا تھا کہ یہ لوگ پھر ابو طالب کے پاس جمع ہوئے اور ان سے کہا کہ اب معاملہ حد کو پہنچ گیا ہے اور ہم کو رجس اور پلید اور شتر البریہ اور سفہاء اور شیطان کی ذریت کہا جاتا ہے اور ہمارے معبودوں کو جہنم کا ایندھن قرار دیا جاتا ہے اور ہمارے بزرگوں کو لا یعقل کہہ کر پکارا جاتا ہے۔اس لیے اب ہم صبر نہیں کر سکتے اور اگر تم اس کی حمایت سے دستبردار نہیں ہو سکتے تو پھر ہم بھی مجبور ہیں۔ہم پھر تم سب کے ساتھ مقابلہ کریں گے حتی کہ دونوں فریقوں میں سے ایک ہلاک ہو جاوے۔“ ابو طالب کے لیے اب نہایت نازک موقع تھا اور وہ سخت ڈر گئے اور اُسی وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا یا۔جب آپ آئے تو اُن سے کہا کہ ”اے میرے بھتیجے ! اب تیری باتوں کی وجہ سے قوم سخت مشتعل ہوگئی ہے اور قریب ہے کہ تجھے ہلاک کر دیں اور ساتھ ہی مجھے بھی۔تو نے ان کے عقلمندوں کو سفیہ قرار دیا۔اُن کے بزرگوں کوشر البریۃ کہا۔ان کے قابل تعظیم معبودوں کا نام ہیزم جہنم اور وقود النار رکھا اور خود انہیں رجس اور پلید ٹھہرایا۔میں تجھے خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ اس دُشنام دہی سے اپنی زبان کو تھام لو اور اس کام سے باز آ جاؤ ؛ ورنہ میں تمام قوم کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا کہ اب ابو طالب کا پائے ثبات بھی لغزش میں ہے اور دنیاوی اسباب میں سے سب سے بڑا سہارا مخالفت کے بوجھ کے نیچے دب کر ٹوٹا چاہتا ہے۔مگر آپ کے ماتھے پر بل تک نہ تھا۔نہایت اطمینان سے فرمایا۔’ چا یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو وہ کام ہے جس کے واسطے میں بھیجا گیا ہوں کہ لوگوں کی خرابیاں اُن پر ظاہر کر کے انہیں سیدھے رستے کی طرف بلاؤں اور اگر اس راہ میں مجھے مرنا ل : ابن ہشام