سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 154
۱۵۴ اور اپنے جرموں کی پاداش میں مارا گیا۔پھر اسود بن عبد یغوث ، حارث بن قیس، اسود بن مطلب، ابوقیس بن فاکہد ، منبہ بن الحجاج ، نبیه بن الحجاج ، مالک بن طلاطلہ، حکم بن ابی العاص ، رکانہ بن یزید وغیرہ بھی شرارت اور عداوت میں کم و بیش بہت حصہ لیتے تھے یا ان کے علاوہ بعض اور لوگ بھی تھے جو عداوت میں بہت بڑھے ہوئے تھے لیکن چونکہ وہ بعد میں مسلمان ہو گئے اس لئے ان کا اس جگہ اس فہرست میں ذکر کرنا شاید درست نہ ہو البتہ اپنے اپنے موقع پر اُن کا ذکر خود آ جائے گا۔اسلام اور بانی اسلام کے خلاف کفار مکہ کی عداوت اسلام کے خلاف جب قریش کی مخالفت شروع ہوئی تو پھر وہ دن بدن بڑھتی گئی اور خطرناک صورت اختیار کرتی گئی ؛ چنانچہ سرولیم میورلکھتا ہے کہ قریش نے فیصلہ کر لیا تھا کہ: یہ نیا مذہب صفحہ دنیا سے ملیا میٹ کر دیا جاوے اور اس کے متبعین اس سے بزور روک دیئے جاویں اور قریش کی طرف سے جب ایک دفعہ مخالفت شروع ہوئی تو پھر دن بدن اُن کی ایذاء رسانی بڑھتی اور آتش غضب تیز ہوتی گئی۔“ در حقیقت جوفتنہ مخالفین اسلام نے اسلام کے خلاف بر پا کیا اور اس کے مٹانے کے واسطے جو جو تدا بیر کیں وہ ایک لمبی اور دردناک کہانی ہے جس کا سلسلہ ہجرت کے آٹھویں سال تک پہنچتا ہے۔ابو طالب کے پاس قریش کا پہلا وفد سب سے دیہی سب سے پہلی کوشش قریش کی یہ تھی کہ جس طرح بھی ہو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو طالب کی ہمدردی اور حفاظت سے محروم کر دیں۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جب تک ابوطالب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں اس وقت تک وہ بین القبائل تعلقات کو خراب کئے بغیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہاتھ نہیں اُٹھا سکتے۔ابو طالب قبیلہ بنو ہاشم کے رئیس تھے اور باوجو د مشرک ہونے کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مربی اور محافظ تھے اس لیے ان کے ہوتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہاتھ اُٹھانا بین القبائل سیاست کی رُو سے بنو ہاشم کے ساتھ جنگ چھیڑنے کے مترادف تھا جس کے لیے دوسرے قبائل قریش ابھی تک تیار نہ تھے۔لہذا پہلی تجویز اُنہوں نے یہ کی کہ ابو طالب کے پاس دوستانہ رنگ میں ایک وفد بھیجا کہ وہ اپنے بھتیجے کو اشاعت اسلام سے روک دیں؛ چنانچہ ولید بن مغیرہ، له : تاریخ کامل وزرقانی : میور صفحه ۶۱