سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 152
۱۵۲ (۵) قریش میں بڑے بڑے صاحب اثر اور مالدار لوگ موجود تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم با وجود ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھنے کے ان دونوں باتوں سے خالی تھے۔یعنی نہ تو آپ اپنی خلوت پسند طبیعت کی وجہ سے لیڈران قریش میں سے تھے اور نہ مال و دولت کے لحاظ سے کوئی ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ایسی حالت میں سردارانِ مکہ کے لیے آپ کی اتباع اختیار کرنا ایک ایسی بڑی قربانی تھی جس کے لیے یہ لوگ ہر گز تیار نہیں تھے اور اسی وجہ سے وہ کہتے تھے کہ : لَوْلَا نُزِّلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمِ O کیوں نہ یہ قرآن مکہ یا طائف کے کسی بڑے آدمی پر نازل ہوا۔“ (1) ان اسباب کے علاوہ ایک باعث یہ بھی تھا کہ قریش کے مختلف قبائل کے درمیان سخت رقابت اور دشمنی رہتی تھی اس لیے باقی قبائل کو ہر گز یہ گوارا نہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ اُن پر کسی قسم کا امتیاز لے جاوے اور قبائل بنوامیہ اور بنومخزوم کو تو خصوصیت سے بنو ہاشم کے ساتھ سخت عداوت تھی۔اسی لیے سب قبائل سے بڑھ کر ان دو قبائل نے اسلام کی مخالفت میں حصہ لیا۔ائمة الكفر قریش میں سے جن لوگوں نے اسلام کی زیادہ مخالفت کی اور اس تحریک میں وہ دوسروں کے لیڈر سمجھے جاتے تھے وہ سب ایک قسم کے نہ تھے بعض میں ذاتی شرافت تھی اور وہ اپنے رنگ میں بالعموم شرافت ہی کا معاملہ کرنا چاہتے تھے مگر کچھ تو اپنی بڑائی کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت قبول نہ کر سکتے تھے اور کچھ انہیں یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی تھی کہ اس طرح بعض ” خام خیالوں“ کے ہاتھ سے اُن کے دین آبائی کی بربادی ہو رہی ہے اُن میں زیادہ ممتاز یہ لوگ نظر آتے ہیں۔اول مطعم بن عدی جو قبیلہ بنو نوفل سے تھا اور رؤساء قریش میں سے تھا۔مطعم رکا مشرک تھا مگر معاملات میں حتی الوسع شرافت کا طریق اختیار کرتا تھا؛ چنانچہ آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف قریش کے معاہدہ بائیکاٹ کو توڑنے اور سفر طائف سے واپسی پر آپ کو اپنی پناہ میں مکہ میں داخل کرنے میں مطعم نے خاص شرافت اور خاص جرات سے کام لیا تھا۔دوسرے ابوالبختری تھا جو قبیلہ بنو اسد سے تھا۔ابو البختری بھی مخالفت میں حتی الوسع شرافت کو ہاتھ سے نہیں دیتا تھا۔اسی ذیل میں ایک شخص زبیر بن ابو امیہ تھا جو حضرت اُم سلمہ کا بھائی تھا اور با وجود مخالفت کے عموماً شرافت کا پہلو اختیار کرتا تھا۔: سورۃ زخرف : ۳۲