سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 153
۱۵۳ دوسری قسم کے وہ لوگ تھے جن کی مخالفت کچھ شرارت کا پہلو بھی لیے ہوئے تھی۔ان میں یہ لوگ ممتاز تھے۔اول عقبہ بن ربیعہ جو بنو عبد شمس میں سے تھا اور بہت مالدار اور صاحب اثر تھا۔جنگ بدر کے موقع پر جب عقبہ اپنے سُرخ اُونٹ پر سوار ہو کر اسلامی لشکر کے سامنے آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے دیکھ کر فرمایا کہ اگر اس گروہ میں کسی میں کچھ شرافت ہے، تو اس سُرخ اونٹ کے سوار میں ہے۔عقبہ کا بھائی شیبہ بھی اسی کے زیر اثر تھا۔یہ دونوں جنگ بدر میں حضرت حمزہ اور حضرت علی کے ہاتھ سے قتل ہوئے۔دُوسرے ولید بن مغیرہ تھا جو حضرت خالد بن ولید کا والد اور قریش کا رئیس اعظم تھا۔حتی کہ قریش اسے اپنا باپ سمجھتے تھے۔ولید ہجرت نبوی کے تین ماہ بعد اتفاقی طور پر تیر چبھ جانے سے ہلاک ہوا۔تیسرے عاص بن وائل سہمی تھا۔جو حضرت عمرو بن عاص کا باپ تھا۔یہ بھی نہایت دولت مند اور بڑا صاحب اثر تھا۔عاص ہجرت کے دوسرے ماہ پاؤں سوج جانے سے نہایت تکلیف اُٹھا کر مکہ میں مر گیا۔تیسری قسم کے گروہ کی حالت بالکل مختلف تھی۔یہ وہ لوگ تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں بالکل اندھے ہو رہے تھے اور ہر جائز و ناجائز طریق سے کوشش کرتے تھے کہ اسلام اور بانی اسلام کو صفحہ دنیا سے مٹادیں اور مسلمانوں کو اپنے پاؤں کے نیچے کچل ڈالیں اور قریش میں انہی لوگوں کا زیادہ زور تھا اور انہی لوگوں کی کثرت تھی۔اُن میں خاص طور پر ممتاز یہ لوگ نظر آتے ہیں۔اول عمر و بن ہشام جو بنو مخزوم میں سے تھا۔یہ وہ شخص ہے جسے گو یار اس المعاندین سمجھنا چاہئے۔قریش میں یہ نہایت ممتاز حیثیت رکھتا تھا اور وہ اسے ابو الحکم یعنی ” دانائی کا باپ کہتے تھے۔مگر مسلمانوں نے اس کا نام ابوجہل رکھا۔یہ جنگ بدر میں دو انصار لڑکوں کے ہاتھ سے واصل جہنم ہوا۔دوسرے ابولہب بن عبدالمطلب جو بنو ہاشم میں سے تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی چا تھا۔ابولہب مخالفت اور ایذاء رسانی میں ابو جہل کا ہم پلہ تھا اور اسے یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ معاندین اسلام میں سے صرف اس کا نام قرآن شریف میں صراحت کے ساتھ مذکور ہوا ہے۔ابولہب جنگ بدر سے تھوڑا عرصہ بعد مکہ میں بیمار پڑ کر ہلاک ہوا۔تیسرے عقبہ بن ابی معیط تھا جو بنوامیہ میں سے تھا اور پرلے درجہ کا شریر اور بد باطن شخص تھا۔یہ جنگ بدر میں شریک ہوا اور مارا گیا۔پھر امیہ بن خلف تھا جو بنو نجح میں سے تھا۔شرارت اور عداوت میں یہ ابو جہل کا مثل تھا۔جنگ بدر میں قتل ہوا۔امیہ کا بھائی ابی بن خلف بھی اسی قماش کا آدمی تھا۔یہ جنگ اُحد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے زخمی ہوا اور اسی زخم سے اپنی کیفر کردار کو پہنچا۔پھر النضر بن الحارث تھا جو بنو عبد الدار میں سے تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت دُکھ دیا کرتا تھا۔یہ جنگ بدر میں قید ہوا