سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 151
۱۵۱ إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ يا د یعنی اے لوگو! تم اور تمہارے وہ بت جن کو تم پوجتے ہو دوزخ کا ایندھن ہیں۔“ ان باتوں نے قریش کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی اور وہ ایک جان ہو کر اسلام کو مٹانے کے واسطے اُٹھ کھڑے ہوئے۔(۲) بت پرستی کے علاوہ عرب میں عادات اور اخلاق کا جو حال تھا وہ اس کتاب کے شروع میں بیان ہو چکا ہے۔زنا، شراب، قمار بازی، غارت گری قبل ، حرام خوری کا بازار ہر وقت گرم رہتا تھا مگر اسلام ان سب باتوں سے روکتا تھا۔گویا اسلام لانے سے ان کو ایک نئی زندگی اختیار کرنی پڑتی تھی اور قریش اس کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔یہی حال رسوم پرستی کا تھا جو گویا عربوں کے دین و مذہب کا جزو بن چکی تھیں مگر اسلام سب گندی اور خلاف اخلاق اور خلاف مذہب رسوم کو پاؤں کے نیچے مسلتا تھا۔(۳) اپنے آبا ؤ اجداد کی عزت اور ہر بات میں خواہ وہ درست ہو یا غلط ان کی پیروی اختیار کرنا عربوں کے دین و مذہب کا جز و تھا۔اسی وجہ سے اُن کو اصرار تھا کہ: بَلْ نَتَّبِعُ مَا الْفَيْنَا عَلَيْهِ أَبَاءَنَا : پایا ہے۔“ یعنی ہم تو بہر حال اُسی بات کی اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو مگر اسلام خدا دا د عقل کو سچ اور جھوٹ کے درمیان حکم قرار دیتا تھا اور اُن کے مشرک آباء کے متعلق صاف کہتا تھا: اَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ - کیا وہ اپنے آباؤ اجداد ہی کی اتباع کریں گے خواہ ان کے آباء گمراہ اور بیوقوف ہی 66 کیوں نہ ہوں۔“ (۴) قریش ایک نہایت متکبر قوم تھی۔یہ لوگ کسی کو اپنے برابر نہ سمجھتے تھے اور غلاموں کو تو خصوصیت سے ذلیل اور زیر رکھنا چاہتے تھے۔مگر اسلام حقوق کے معاملہ میں ان سب امتیازات کو مٹا کر ایک عالمگیر اخوت قائم کرتا اور آقا اور غلام کو خدا تعالیٰ کے حضور میں ایک صف میں کھڑا کرتا تھا اور یہ بات رؤسائے قریش کے واسطے موت کے پیالہ سے کم بیتھی۔ا : سورۃ انبیاء : ۹۹ ے : سورۃ بقرہ : ۱۷۱ ے : سورۃ بقرہ : ۱۷۱