سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 150 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 150

۱۵۰ اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ جو لوگ بڑے سمجھے جاتے ہیں وہی عموماً مخالفت میں بھی بڑھے ہوئے ہوتے ہیں؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ اَكْبِرَ مُجْرِ مِنْهَا لِيَمْكُرُوا فِيهَا د یعنی سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ ہر جگہ رسول کے مقابلہ پر بڑے لوگ ہی خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کرنے والے اور فتنہ وفساد کے بانی بن جاتے ہیں۔“ چنانچہ دیکھ لو حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے تو اُن کی قوم کے بڑے بڑے لوگوں نے اُن کو پکڑ کر آگ میں جھونک دیا۔حضرت موسی آئے تو ان کو بھی اکا بر قوم کی طرف سے جنگ و جدل کے مصائب دیکھنے پڑے۔حضرت مسیح کی باری آئی تو اُن کی قوم کے علماء اور فریسیوں نے مل ملا کر اُن کو دار پر کچھوا دیا۔ہندوستان میں کرشن مبعوث ہوئے تو اُن کی قوم ان کو ہلاک کرنے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی۔تو کیا سرور انبیاء اس سنت رسل سے باہر رہتا؟ نہیں بلکہ جتنا عظیم الشان مشن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے اتنی ہی شدید آپ کی مخالفت ہونی چاہئے تھی کیونکہ آپ ایسے زمانہ میں مبعوث ہوئے تھے کہ جب تاریکی کا خاص زور تھا اور ضروری تھا کہ نور کے آنے پر تاریکی کی فوجیں اپنی انتہائی طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں؛ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ سارے گذشتہ انبیاء کی نسبت آپ کی مخالفت سب سے زیادہ ہوئی۔اور اس مخالفت کے موٹے موٹے ظاہری اسباب یہ تھے: (1) قریش ایک پرلے درجہ کی بت پرست قوم تھی اور بتوں کی عزت و محبت ان کے دلوں میں اس قدر جمی ہوئی تھی کہ اُن کے خلاف ایک لفظ بھی سننا اُنہیں گوارا نہ تھا۔خانہ کعبہ جو محض اللہ تعالیٰ کی عبادت کے واسطے بنایا گیا تھا اس میں بھی ان ظالموں نے سینکڑوں بت جمع کر رکھے تھے اور اپنی تمام ضروریات کے لیے انہی بتوں کا منہ تکتے تھے۔اب اسلام آیا تو اس کا بنیادی اصول ہی تو حید باری تعالیٰ تھا اور صاف حکم تھا کہ کسی انسان یا درخت یا پتھر یا ستارے وغیرہ کے سامنے سرمت جھکاؤ بلکہ: وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ : صرف اسی ذات کے سامنے جھکو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے۔“ پھر یہی نہیں بلکہ قریش کے بتوں کو اُن کے خیال میں ہتک آمیز لفظوں میں یاد کیا جاتا تھا اور ان کو جہنم کا ایندھن قرار دیا جاتا تھا۔جیسے مثلاً فر مایا: ل : سورة انعام : ۱۲۴ ۲ : سورة حم سجده : ۳۸