سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 149
۱۴۹ زخمی ہوئے تو انہوں نے اپنی جگہ صہیب کو ہی جو اس وقت پاس موجود تھے امام الصلوۃ مقرر فرمایا تھا۔چنانچہ حضرت عمر کا جنازہ بھی صہیب نے پڑھا تھا۔ابو موسی اشعری بھی غالباً اُسی زمانہ میں یا اس کے قریب مسلمان ہوئے تھے۔ابو موسی" یمن کے رہنے والے تھے اور نہایت خوش الحان تھے۔حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے متعلق ایک دفعہ فرمایا کہ ابو موسیٰ کو تو لحن داؤدی سے حصہ ملا ہے۔یہ وہی ابو موسیٰ ہیں جو حضرت علی کے عہد خلافت میں حضرت علی اور امیر معاویہ کے درمیان ثالث مقرر ہوئے تھے۔قریش کی مخالفت کا آغاز اور اس کے اسباب جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے دار ارقم میں داخل ہونے کے زمانہ سے کچھ پہلے ہی کھلم کھلی تبلیغ شروع ہو گئی تھی اور مکہ کے گلی کوچوں میں اسلام کا چرچا ہونے لگا تھا۔قریش اب تک تو ایک حد تک خاموش تھے لیکن اب ان کو بھی فکر شروع ہوا کہ کہیں یہ مرض زیادہ نہ پھیل جاوے اور اسلام کا پودا مکہ کی زمین میں جڑ نہ پکڑ جاوے۔اس لیے اب انہوں نے بھی اس کی طرف توجہ شروع کی اور اسلام کی اشاعت کو بزور روکنا چاہا۔اس مخالفت کے کیا اسباب تھے؟ اس سوال کے جواب میں ہمیں کچھ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ہر نیا الہی سلسلہ جو دنیا میں قائم ہوتا ہے دنیا کی طرف سے ضرور اس کی مخالفت ہوتی ہے کیونکہ وہ لازماً اپنے اندر ایسی باتیں رکھتا ہے جس سے اس وقت کی دنیا محض نا آشنا ہوتی ہے بلکہ یہ وہ باتیں ہوتی ہیں جن کو دنیا اپنی موجودہ عادات اور موجودہ عقائد و خیالات کے واسطے ایک یقینی موت سمجھتی ہے۔درحقیقت انبیاء کی بعثت ہی ایسے وقت میں ہوتی ہے کہ جب دنیا کے لوگ اس راستہ کو چھوڑ چکے ہوتے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ کا منشا ہے کہ وہ چلیں اور وہ اپنے موجودہ غلط راستہ کو ہی صحیح راستہ سمجھ رہے ہوتے ہیں۔پس جب بھی کبھی کوئی نیا نبی آتا اور دُنیا کوسید ھے راستے کی طرف بلاتا ہے تو دنیا اس کی باتوں کو غلط خیال کرتی اور اس کے مقابلہ کے لیے تیار ہو جاتی ہے؛ چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوْا بِهِ يَسْتَهْزِءُ ونَ د یعنی وائے حسرت لوگوں پر کہ کوئی بھی رسول اُن کی طرف ایسا نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے ہنسی اور ٹھٹھا نہ کیا ہو۔“ ل : سورۃ لیس : ۳۱