سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 145
۱۴۵ بلائے گا۔غالباً اسی زمانہ کے قریب کا ایک اور واقعہ ہے کہ سعد بن ابی وقاص اور چند اور مسلمان مل کر کسی گھائی میں نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک چند مشرکین وہاں آ نکلے اور انہوں نے مسلمانوں کو ایک نئے رنگ کی عبادت کرتے دیکھ کر ڈانٹا۔جس پر با ہم کچھ تکرار بھی ہوگئی ہے کھلی تبلیغ کا آغاز یہ ابتدائی زمانہ اسی طرح خاموش اور خفیہ تبلیغ میں گذر رہا تھا اور بعثت نبوی پر قریباً تین سال گذر چکے تھے اور اب چوتھا سال شروع تھا کہ الہی حکم نازل ہوا کہ فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ “ ،، دو یعنی اے رسول ! جو حکم تجھے دیا گیا ہے وہ کھول کھول کر لوگوں کو سنادے “۔اور اس کے قریب ہی یہ آیت اتری کہ: وَاَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ۔یعنی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار و بیدار کر ؟ جب یہ احکام اُترے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ صفا پر چڑھ گئے اور بلند آواز سے پکار کر اور ہر قبیلہ کا نام لے لے کر قریش کو بلایا۔جب سب لوگ جمع ہو گئے۔تو آپ نے فرمایا: ”اے قریش ! اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بڑا لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنے کو تیار ہے تو کیا تم میری بات کو مانو گے؟ بظاہر یہ ایک بالکل نا قابل قبول بات تھی مگر سب نے کہا۔”ہاں ہم ضرور مانیں گے کیونکہ ہم نے تمہیں ہمیشہ صادق القول پایا ہے۔آپ نے فرمایا تو پھر سنو! میں تم کو خبر دیتا ہوں کہ اللہ کے عذاب کا لشکر تمہارے قریب پہنچ چکا ہے۔خدا پر ایمان لاؤ تا اس عذاب سے بچ جاؤ۔“ جب قریش نے یہ الفاظ سنے تو کھل کھلا کر ہنس پڑے اور آپ کے چچا ابولہب نے آپ سے مخاطب ہو کر کہا۔” تبا لَكَ الِهَذَا جَمَعْتَنَا۔“ محمد تو ہلاک ہو۔کیا اس غرض سے تو نے ہم کو جمع کیا تھا ؟“ پھر سب لوگ ہنسی مذاق کرتے ہوئے منتشر ہو گئے۔اقرباء کی دعوت انہی دنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے ارشاد فر مایا کہ ایک دعوت کا انتظام کرو اور اس میں بنو عبدالمطلب کو بلا ؤ تا کہ اس ذریعہ سے اُن تک پیغام حق پہنچایا جاوے؛ چنانچہ حضرت علی نے دعوت کا انتظام کیا اور آپ نے اپنے سب قریبی رشتہ داروں ل ابن ہشام بابِ ابْتِدَاءُ مَا فَرَضَ الله : طبری : قرآن شریف سورۃ حجر : ۹۵ ه : بخاری قصه اسلام ابی ذر قرآن شریف سورۃ شعراء : ۲۱۵ د: طبری و خمیس