سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 144 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 144

۱۴۴ لگتا تھا جس کی وجہ یہ بھی تھی کہ اس زمانہ میں مسلمان اپنے اسلام کو عام طور پر چھپاتے تھے اور سردارانِ قریش کے کانوں تک تو بہت ہی کم خبر پہنچتی تھی لیکن اگر کبھی خبر پہنچ بھی جاتی تو بھی ان کی طرف سے ان ایام میں عموماً مسلمانوں سے کوئی تعارض نہ ہوتا تھا بلکہ اُن کی مخالفت عملاً ہنسی مذاق تک ہی محدو درہتی تھی کیونکہ وہ اس تمام کا رروائی کو ایک بچوں کا کھیل سمجھتے تھے یا اگر کبھی کوئی شخص زیادہ بختی سے مخالفت کرتا بھی تھا تو یہ اس کا ذاتی فعل ہوتا تھا اور اسلام کے خلاف قریش کی طرف سے اس وقت کوئی متحدہ مخالفانہ کوشش نہ تھی۔ابتدائی زمانہ کے ارکانِ اسلام اصول اسلام کا ذکر اوپر گذر چکا ہے یعنی یہ کہ اس ابتدائی زمانہ میں جب کہ شریعت اسلامی کے نزول کی ابتدا تھی ارکان اسلام میں سے صرف ایمان باللہ اور توحید پر اصل زور تھا۔اس کے بعد ایمان بالرسل، بعث بعد الموت اور جزا سزا کا عقیدہ تھا اور گو در حقیقت یہ وہ بنیادی اصول ہیں کہ اگر غور سے دیکھو تو سب کچھ ان کے اندر آ جاتا ہے لیکن جس طرح بعد میں یہ اور دوسری اصولی باتیں تدوینی رنگ میں ارکان ایمان قرار دی گئیں یہ حال اوائل میں نہ تھا۔اسی طرح ارکانِ اعمال کا حال تھا بلکہ اعمال میں تو موجودہ ارکان یعنی نماز، روزہ ، حج ، زکوۃ وغیرہ میں سے کوئی رکن بھی اس وقت تک باقاعدہ طور پر قائم نہ ہوا تھا۔البتہ احادیث سے اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ ابتدا میں جبرائیل نے آپ کو نماز اور وضو کا طریق سکھا دیا تھا مگر با قاعدہ پانچ وقت کی نماز بہت بعد میں شروع ہوئی اور روزہ وغیرہ تو اس سے بھی بہت عرصہ بعد میں شروع ہوئے۔ابتداء میں صرف نماز تھی اور وہ بھی ایک نفلی رنگ رکھتی تھی یعنی ان ابتدائی ایام میں مسلمان اپنے طور پر گھروں میں یا مکہ کے پاس کی گھاٹیوں میں دو دو چار چار مل کر جب موقع ملا ایک عام عبادت کے رنگ میں نماز ادا کر لیا کرتے تھے؛ چنانچہ اس ابتدائی زمانہ کے متعلق مؤرخین لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی مکہ کی کسی گھائی میں نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک اس طرف سے ابوطالب کا گذر ہوا۔ابوطالب کو ابھی تک اسلام کی کوئی خبر نہ تھی اس لیے وہ کھڑا ہو کر نہایت حیرت سے یہ نظارہ دیکھتارہا۔جب آپ نماز ختم کر چکے تو اس نے پوچھا ” بھتیجے یہ کیا دین ہے جو تم نے اختیار کیا ہے؟“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔چا! یہ دین الہی اور دین ابراہیم ہے۔“ اور آپ نے ابوطالب کو مختصر طور پر اسلام کی دعوت دی لیکن ابو طالب نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ”میں اپنے باپ دادا کا مذہب نہیں چھوڑ سکتا۔مگر ساتھ ہی اپنے بیٹے حضرت علی کی طرف مخاطب ہو کر بولا۔”ہاں بیٹا تم بے شک محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا ساتھ دو کیونکہ مجھے یقین ہے کہ وہ تم کو سوائے نیکی کے اور کسی طرف نہیں