سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 146 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 146

۱۴۶ کو جو اس وقت کم و بیش چالیس نفوس تھے اس دعوت میں بلایا۔جب وہ کھانا کھا چکے تو آپ نے کچھ تقریر شروع کرنی چاہی مگر بد بخت ابو لہب نے کچھ ایسی بات کہہ دی جس سے سب لوگ منتشر ہو گئے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ یہ موقع تو جاتا رہا اب پھر دعوت کا انتظام کرو۔“ چنانچہ آپ کے رشتہ دار پھر جمع ہوئے اور آپ نے انہیں یوں مخاطب کیا کہ ”اے بنوعبدالمطلب ! دیکھو میں تمہاری طرف وہ بات لے کر آیا ہوں کہ اس سے بڑھ کر اچھی بات کوئی شخص اپنے قبیلہ کی طرف نہیں لایا۔میں تمہیں خدا کی طرف بلاتا ہوں۔اگر تم میری بات مانو تو تم دین ودنیا کی بہترین نعمتوں کے وارث بنو گے۔اب بتاؤ اس کام میں میرا کون مددگار ہو گا ؟ سب خاموش تھے اور ہر طرف مجلس میں ایک سناٹا تھا کہ یکانت ایک طرف سے ایک تیرہ سال کا دبلا پتلا بچہ جس کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا اُٹھا اور یوں گویا ہوا۔گو میں سب میں کمزور ہوں اور سب میں چھوٹا ہوں مگر میں آپ کا ساتھ دوں گا۔‘ یہ حضرت علیؓ کی آواز تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کے یہ الفاظ سنے تو اپنے رشتہ داروں کی طرف دیکھ کر فرمایا۔اگر تم جانو تو اس بچے کی بات سنو اور اسے مانو۔حاضرین نے یہ نظارہ دیکھا تو بجائے عبرت حاصل کرنے کے سب کھل کھلا کر ہنس پڑے اور ابولہب اپنے بڑے بھائی ابو طالب سے کہنے لگا ”لواب محمد تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم اپنے بیٹے کی پیروی اختیار کرو۔اور پھر یہ لوگ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کمزوری پر ہنسی اُڑاتے ہوئے رخصت ہو گئے۔“ دار ارقم میں پہلا تبلیغی مرکز غالباً انہی ایام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کو یہ خیال پیدا ہوا کہ مکہ میں ایک تبلیغی مرکز قائم کیا جاوے۔جہاں مسلمان نماز وغیرہ کے لیے بے روک ٹوک جمع ہوسکیں اور امن واطمینان اور خاموشی کے ساتھ باقاعدہ اسلام کی تبلیغ کی جاسکے۔اس غرض کے لیے ایک ایسے مکان کی ضرورت تھی جو مرکزی حیثیت رکھتا ہو۔چنانچہ آپ نے ایک نو مسلم ارقم بن ابی ارقم کا مکان پسند فرمایا۔جو کوہ صفا کے دامن میں واقع تھا۔اس کے بعد تمام مسلمان یہیں جمع ہوتے۔یہیں نماز پڑھتے۔یہیں متلاشیان حق آتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اسلام کی تبلیغ فرماتے۔اسی وجہ سے یہ مکان تاریخ میں خاص شہرت رکھتا ہے اور دار الاسلام کے نام سے مشہور ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریباً تین سال تک دارِ ارقم میں کام کیا۔یعنی بعثت کے چوتھے سال آپ نے اسے اپنا مرکز بنایا اور چھٹے سال کے آخر تک آپ نے اُس میں اپنا کام کیا۔مؤرخین لکھتے طبری