سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 85
۸۵ ڈال لیا جائے جیسا کہ عموماً اس زمانہ میں ہوتا تھا۔اگر یہی غلامی ہے تو دُنیا کی کوئی شریف اور آزاد قوم بھی اس غلامی کے داغ سے محفوظ نظر نہیں آتی۔خود بنی اسرائیل کی قوم ایک بڑے لمبے عرصہ تک یعنی ابتداء مصر میں اور پھر بابل میں غلامی کی قید میں محبوس رہی ہے۔مگر یقیناً اس وجہ سے بنی اسرائیل کے نبی اور بادشاہ غلام زادے نہیں کہلا سکتے اور نہ ہی حضرت سارہ کا شاہ مصر کے حرم میں عارضی طور پر محبوس رہنا یا حضرت یوسف کا عزیز مصر کے گھر میں بطور غلام کے زندگی بسر کرنا کسی اسرائیلی فرزند کے لیے باعث طعن سمجھا جاسکتا ہے۔فافهم تعمیر کعبہ اس ضمنی مگر ضروری بحث کے بعد ہم اپنے اصل مضمون کی طرف لوٹتے ہیں۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت ابرا ہیم نے خدائی حکم کے ماتحت حضرت ہاجرہ اور اُن کے فرزند دلبند کو مکہ کی وادی غیر ذی زرع میں لاکر آباد کیا۔اور پھر واپس تشریف لے گئے۔جب حضرت ابراہیم عرب میں دوبارہ سہ بارہ تشریف لائے تو حضرت ہاجرہ فوت ہو چکی تھیں۔اور اتفاق سے دونوں دفعہ حضرت اسمعیل بھی کہیں باہر گئے ہوئے تھے اور اس وجہ سے باپ بیٹے کی ملاقات نہیں ہوسکی۔اس پر حضرت ابراہیم چوتھی دفعہ پھر عرب میں تشریف لائے اور اس دفعہ دونوں نے مل کر مکہ میں ایک عبادت خانہ کی تعمیر شروع کی۔یہ عبادت خانہ دراصل بہت پرانا تھا۔مگر اس کے نشان مٹ چکے تھے۔اور حضرت ابراہیم نے خُدا سے علم پا کر اسے نئے سرے سے تعمیر کرنے کی تجویز کی تھی۔حضرت اسمعیل تعمیر کے کام میں آپ کے مددگار تھے اور آپ کو پتھر لا لا کر دیتے تھے۔جب دیوار میں کچھ اونچی ہو گئیں تو حضرت ابرا ہیم نے ایک خاص پتھر لے کر کعبہ کے ایک کو نہ میں نصب کیا تا کہ وہ لوگوں کے لئے بطور نشان کے ہو کہ بیت اللہ کا طواف یہاں سے شروع کرنا چاہئے۔یہ حجر اسود ہے جسے حج میں طواف کے وقت منہ سے یا ہاتھ کے اشارہ سے بوسہ دیتے ہیں۔مگر یا درکھنا چاہیے کہ حجر اسود کوئی بالذات مقدس چیز نہیں ہے اور نہ ہی طواف کے وقت اسے بوسہ دینا کسی طرح شرک سمجھا جاسکتا ہے بلکہ وہ محض علامت کے طور پر ہے اور اصل نقدس صرف ان پاک روایات کو حاصل ہے جو خانہ کعبہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ جب حضرت عمر خلیفہ ثانی خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے ، تو آپ نے حجر اسود کی طرف منہ کر کے فرمایا کہ اے پتھر ! میں جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے اور تجھے نفع یا نقصان کی کوئی طاقت حاصل نہیں ہے۔اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے ہرگز بوسہ 1 : بائیبل وانسائیکلو پیڈیا : از رقی وزرقانی و خمیس : خمیس